ماہرینِ فلکیات نے ایک نایاب سیارے ٹی او آئی-5205 بی کی فضا کا تفصیلی جائزہ لے کر حیران کن انکشافات کیے ہیں، جو موجودہ سائنسی نظریات کو چیلنج کر رہے ہیں۔
یہ سیارہ، جو حجم میں مشتری جتنا بڑا ہے، ایک نہایت چھوٹے سرخ بونے ستارے کے گرد گردش کرتا ہے۔ اس نظام کو ‘ناممکن’ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ سیاروی تشکیل کے ماڈلز اس بات کی وضاحت نہیں کر پاتے کہ اتنا بڑا سیارہ اتنے چھوٹے ستارے کے گرد کیسے بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
سائنسدانوں نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے اس سیارے کی فضا کا تفصیلی مشاہدہ کیا۔ چونکہ یہ سیارہ اپنے ستارے کی روشنی کا تقریباً 6 فیصد حصہ ڈھانپ لیتا ہے، اس لیے اس کی فضا کا مطالعہ نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق اس سیارے کی فضا میں بھاری عناصر (میٹلز) کی مقدار توقع سے کہیں کم ہے، جو اس کے میزبان ستارے کے مقابلے میں بھی کم ہے۔ یہ بات عام سائنسی اصولوں کے برعکس ہے، کیونکہ عموماً سیارے کی فضا میں میٹلز کی مقدار اس کے ستارے کے برابر یا زیادہ ہوتی ہے۔
مزید برآں، سیارے کی فضا میں میتھین اور ہائیڈروجن سلفائیڈ گیسوں کی موجودگی بھی دریافت ہوئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر سیارہ اپنی فضا کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ دھاتی عناصر رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایک بار پھر آسمان پر 6 سیاروں کا نظارہ کب کیا جاسکے گا؟
ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیارے کی تشکیل کے دوران بھاری عناصر اندرونی حصے میں منتقل ہو گئے اور اب وہ فضا کے ساتھ نہیں مل رہے، جس کے باعث اس کی فضا کاربن سے بھرپور اور آکسیجن سے کمزور ہے۔
یہ تحقیق جریدہ دی ایسٹرونومیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے اور ‘ریڈ ڈوارفس اینڈ دی سیون جائنٹس’ پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد چھوٹے ستاروں کے گرد گردش کرنے والے بڑے سیاروں کا مطالعہ کر کے کائنات کے بارے میں ہمارے علم کو بہتر بنانا ہے۔
واضح رہے کہ ٹی او آئی-5205 بی کو پہلی بار 2023 میں ٹرانزٹنگ ایکسوپلانیٹ سروے سیٹلائٹ کے ڈیٹا کی بنیاد پر دریافت کیا گیا تھا۔













