وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بدھ کی علیٰ الصبح اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
وزیرِ اعظم نے سوشل میڈیا پیغام میں بتایا کہ پاکستان نے اس جنگ بندی میں اہم ثالثی کردار ادا کیا، اور دونوں ممالک کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مزید مذاکرات کی دعوت بھی دی ہے تاکہ مستقل حل کی جانب پیشرفت کی جا سکے۔
With the greatest humility, I am pleased to announce that the Islamic Republic of Iran and the United States of America, along with their allies, have agreed to an immediate ceasefire everywhere including Lebanon and elsewhere, EFFECTIVE IMMEDIATELY.
I warmly welcome the…— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 7, 2026
حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان ایک متحرک سفارتی کردار کے طور پر سامنے آیا، جہاں اسلام آباد نے علاقائی ممالک کے ساتھ مشاورت، تہران اور واشنگٹن کے درمیان بیک چینل رابطے اور چین کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کے لیے حکمت عملی پر کام کیا۔
جنگ بندی کے اعلان پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور دیرپا امن کے لیے اقدامات کریں۔
🇰🇿 President Kassym-Jomart Tokayev welcomes the achievement of an agreement on a full ceasefire and truce in the #MiddleEast, reached with the mediation of Prime Minister of #Pakistan Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) and Chief of Army Staff of Pakistan, Field Marshal Asim Munir.
This…
— Press Office of the President of Kazakhstan (@aqorda_press) April 8, 2026
امریکی ماہر برائے جنوبی ایشیا مائیکل کوگلیمین نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے جس نے ناقدین کو بھی حیران کر دیا۔
Tonight, Pakistan achieved one of its biggest diplomatic wins in years. It also defied many skeptics and naysayers that didn’t think it had the capacity to pull off such a complex, high stakes feat.
But what matters the most is it helped avert a potential catastrophe in Iran.— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) April 8, 2026
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان شکوک و شبہات کو غلط ثابت کیا جو اس کی پیچیدہ اور اعلیٰ سطح کی صورتحال کو سنبھالنے کی صلاحیت پر اٹھائے جا رہے تھے۔ ان کے مطابق یہ پیشرفت پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کا واضح ثبوت ہے۔
I wholeheartedly welcome the latest development in the current US-Iran war, in respect of the ten-point plan as proposed by Iran and positively received by the US.
This proposal augurs well for the restoration of peace and stability, not only to the region but also the rest of… pic.twitter.com/Gyy9vtjJPD
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) April 8, 2026
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے پاکستان کی بے مثال اور جراتمند سفارتکاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں مسلم دنیا کے اتحاد اور عالمی ذمہ داری کی عکاس ہیں۔
New Zealand welcomes the announcements by the United States and Iran over the past few hours – as we welcome all efforts to bring an end to this conflict.
While this is encouraging news, there remains significant important work to be done in the coming days to secure a lasting…
— Winston Peters (@NewZealandMFA) April 8, 2026
نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان، ترکیہ اور مصر کی کوششوں کو سراہا۔
برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ اور آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے بھی اس پیشرفت کو مثبت قرار دیا، جبکہ آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کو سراہا۔
Thank you Pakistan for the quiet, effective, diplomatic role you have played in bringing about this vital ceasefire. @CMShehbaz @ForeignOfficePk https://t.co/frHAYxtYTS
— Jane Marriott (@JaneMarriottUK) April 8, 2026
عراق کی وزارتِ خارجہ نے جنگ بندی کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے مستقل مذاکرات پر زور دیا، جبکہ قازقستان کے صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی دیرپا امن اور عالمی معاشی استحکام کا باعث بنے گی۔
مزید پڑھیں: ایران۔امریکا جنگ بندی میں پاکستان کا کردار، ’نوبل امن انعام شہباز شریف اور عاصم منیر کو ملنا چاہیے‘
Congratulations Pakistan on your effective diplomacy and efforts to bring peace! Australia wants to see the #ceasefire upheld and a resolution to the conflict.
🇦🇺🤝🇵🇰🕊️ https://t.co/YCqzDwoo1I— Timothy Kane (@AusHCPak) April 8, 2026
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی پر آمادگی کے بعد یہ پیشرفت ممکن ہوئی، جسے عالمی سطح پر امن کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔













