ایران امریکا جنگ بندی پر پاکستان کا عالمی خیرمقدم، سفارتی کوششوں کی بھرپور پذیرائی

بدھ 8 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بدھ کی علیٰ الصبح اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:’بہت کچھ اچھا ہونے جارہا ہے‘، جنگ بندی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا بیان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی تیزی کا رجحان

وزیرِ اعظم نے سوشل میڈیا پیغام میں بتایا کہ پاکستان نے اس جنگ بندی میں اہم ثالثی کردار ادا کیا، اور دونوں ممالک کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مزید مذاکرات کی دعوت بھی دی ہے تاکہ مستقل حل کی جانب پیشرفت کی جا سکے۔

حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان ایک متحرک سفارتی کردار کے طور پر سامنے آیا، جہاں اسلام آباد نے علاقائی ممالک کے ساتھ مشاورت، تہران اور واشنگٹن کے درمیان بیک چینل رابطے اور چین کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کے لیے حکمت عملی پر کام کیا۔

جنگ بندی کے اعلان پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور دیرپا امن کے لیے اقدامات کریں۔

امریکی ماہر برائے جنوبی ایشیا مائیکل کوگلیمین نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے جس نے ناقدین کو بھی حیران کر دیا۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان شکوک و شبہات کو غلط ثابت کیا جو اس کی پیچیدہ اور اعلیٰ سطح کی صورتحال کو سنبھالنے کی صلاحیت پر اٹھائے جا رہے تھے۔ ان کے مطابق یہ پیشرفت پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کا واضح ثبوت ہے۔

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے پاکستان کی بے مثال اور جراتمند سفارتکاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں مسلم دنیا کے اتحاد اور عالمی ذمہ داری کی عکاس ہیں۔

نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان، ترکیہ اور مصر کی کوششوں کو سراہا۔

برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ اور آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے بھی اس پیشرفت کو مثبت قرار دیا، جبکہ آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کو سراہا۔

عراق کی وزارتِ خارجہ نے جنگ بندی کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے مستقل مذاکرات پر زور دیا، جبکہ قازقستان کے صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی دیرپا امن اور عالمی معاشی استحکام کا باعث بنے گی۔

مزید پڑھیں: ایران۔امریکا جنگ بندی میں پاکستان کا کردار، ’نوبل امن انعام شہباز شریف اور عاصم منیر کو ملنا چاہیے‘

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی پر آمادگی کے بعد یہ پیشرفت ممکن ہوئی، جسے عالمی سطح پر امن کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp