پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ جمعرات کو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان تو کیا ہے، لیکن اس کے لیے کوئی تیاری اور حکمتِ عملی نہ ہونے سے ورکرز بھی کنفیوژن کا شکار ہیں۔
پی ٹی آئی ورکرز کے مطابق جلسے کے حوالے سے ضلع سطح پر میٹنگ اور مشاورت نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے صورتحال واضح نہیں ہے۔
پی ٹی آئی ورکر عزیز خان نے بتایا کہ وہ کل جلسے کے لیے جانے کو تیار ہیں، لیکن ابھی تک واضح نہیں ہے کہ گاڑیاں پارٹی دے گی یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لکھ کر دیتا ہوں کہ نہ پی ٹی آئی 9 اپریل کو جلسہ کرے گی نہ اس میں جلسہ کرنے کی صلاحیت ہے، شیر افضل مروت
انہوں نے بتایا کہ پہلے جلسوں اور مارچ کے حوالے سے باقاعدہ مشاورت اور میٹنگز ہوتی تھیں، اور منتخب اراکین ٹرانسپورٹ کے ذمہ دار ہوتے تھے، ہر منتخب رکن کو ایک مخصوص تعداد میں ورکرز لانے کا ٹاسک دیا جاتا تھا، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مہنگائی اور فیول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ورکرز کے لیے خود ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا مشکل ہے، جبکہ منتخب اراکین بھی خاموش ہیں۔
پلان میں تبدیلی: موٹروے کے بجائے جی ٹی روڈ سے جانے کا فیصلہ
پاکستان تحریک انصاف نے ورکرز کو جمعرات کے روز راولپنڈی پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے، پارٹی کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق پشاور سے قافلہ موٹروے کے بجائے جی ٹی روڈ سے جائے گا، جس کی قیادت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے۔
’ساؤتھ ریجن والے دن 11 بجے تک پشاور ٹول پلازہ پہنچیں گے، پشاور اور ساؤتھ ریجن وہاں سے جی ٹی روڈ کے ذریعے راولپنڈی کے لیے 11 بجے وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں روانہ ہوں گے۔‘
مزید پڑھیں: کوہاٹ میں پی ٹی آئی کا جلسہ: عمران خان کا پیغام آ چکا، اب آزادی یا موت، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پی ٹی آئی کے مطابق راستے میں نوشہرہ سے قافلے انہیں جوائن کریں گے، چارسدہ والے پشاور اور نوشہرہ میں جوائن کریں گے، مردان والے رشکئی ایریا سے جوائن کریں گے۔
ملاکنڈ ریجن، صوابی اور ہزارہ ریجن جہانگیرہ میں جوائن کریں گے، جہاں سے سب مشترکہ طور پر آگے جائیں گے۔
’جہاں روکا، وہیں جلسہ کریں گے‘
پی ٹی آئی رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی سید قاسم علی شاہ کے مطابق لیاقت باغ جلسے کے لیے ورکرز پرامن اور بھرپور طریقے سے نکلیں گے، انہوں نے بتایا کہ جہاں روکا گیا، وہیں جلسہ کریں گے، احتجاج ریکارڈ کرائیں گے اور واپس آ جائیں گے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا پشاور میں جلسہ: بہت جلد ڈی چوک جانے کی کال دوں گا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اعلان
انہوں نے بتایا کہ جلسہ پرامن ہوگا۔ ’۔۔۔لیکن بار بار ایسا نہیں ہوگا۔ اگر دوبارہ نکلنا پڑا تو پھر بھی نکلیں گے۔‘
پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق جلسہ این او سی سے مشروط ہے اور یہ ان کا سیاسی و آئینی حق ہے، دوسری جانب ابھی تک این او سی کے حوالے سے کوئی جواب نہیں آیا، جبکہ راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔













