بنگلہ دیش اور ملائیشیا نے ملائیشیا کی لیبر مارکیٹ کو بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے جلد از جلد دوبارہ کھولنے پر باہمی اتفاق کیا ہے۔
یہ معاہدہ جمعرات کو ملائیشیا کے دارالحکومت پتراجایا میں ہونے والی دو طرفہ ملاقات کے دوران طے پایا، جسے خوشگوار اور تعمیری ماحول قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اور برطانیہ کے مابین ایوی ایشن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا معاہدہ
اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق ہجرت کے اخراجات کم کرنے اور بھرتی کے عمل کو شفاف بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
اجلاس میں لیبر مائیگریشن کے ساتھ ساتھ وسیع تر اقتصادی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
The Human Resources Minister said the agreement was reached as both countries pledged to uphold their commitment to a fair, ethical and transparent recruitment process.https://t.co/mnC2YRi6KL
— The Star (@staronline) April 9, 2026
بنگلہ دیشی وفد کی قیادت وزیر برائے فلاحِ مہاجرین و سمندر پار روزگار عارف الحق چوہدری نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ وزیراعظم کے مشیر مہدی امین بھی موجود تھے۔
ملائیشیا کی جانب سے وزیر انسانی وسائل رامانن راماکرشنن نے وفد کی قیادت کی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش اور برطانیہ کے مابین ایوی ایشن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا معاہدہ
دورے کے دوران بنگلہ دیشی وزیر نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے بھی ملاقات کی۔
انور ابراہیم نے طارق رحمان کو وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور انہیں مناسب وقت پر ملائیشیا کے دورے کی دعوت دی۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے لیبر مائیگریشن میں اپنی دیرینہ اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کی توثیق کی اور منصفانہ، اخلاقی اور شفاف بھرتی کے نظام کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
مصنوعی ذہانت کا مرہون منت ریکروٹمنٹ سسٹم
دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مختلف شعبوں کی ضروریات کے مطابق بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے لیبر مارکیٹ کو جلد کھولا جائے گا اور رکاوٹوں کو دور کرکے اور ایجنٹس کے کردار کو محدود کرکے ہجرت کے اخراجات کم کیے جائیں گے۔
اسی طرح مستند اور اہل ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے استعمال کو یقینی بنایا جائے گا اور پہلے سے پھنسے ہوئے کارکنوں کی تعیناتی میں سہولت فراہم کی جائے گی۔
ملائیشیا نے بنگلہ دیش کو ایک جدید ٹیکنالوجی پر مبنی، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ریکروٹمنٹ سسٹم کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا.
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں 3 چینی شہری گرفتار، 6.3 کلو کیٹامین برآمد
مذکورہ نظام کا مقصد مڈل مین کے کردار کو کم کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اصولوں کے مطابق بھرتی کے تمام اخراجات آجر برداشت کریں۔
بنگلہ دیش نے اس ڈیجیٹل نظام کو دیگر افرادی قوت برآمد کرنے والے ممالک تک توسیع دینے کی حمایت بھی کی۔
وسیع تر تعاون
دونوں ممالک نے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے، اور تعلیمی شعبے میں اساتذہ کے تبادلوں اور ادارہ جاتی شراکت داری کے ذریعے تعاون بڑھانے پر بھی غور کیا۔
اجلاس میں بھرتی کے عمل سے متعلق انسانی اسمگلنگ کے جاری مقدمات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انسانی حقوق اور جبری گمشدگیوں کے خلاف قوانین میں تاخیر پر تشویش
ملائیشیا نے اپنی عالمی ساکھ کو ’بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی اقدامات‘ سے محفوظ رکھنے پر زور دیا، جبکہ بنگلہ دیش نے قانونی تقاضوں، احتساب اور بروقت انصاف کی یقین دہانی کرائی۔
مزید برآں، دونوں ممالک نے ہنر مندی کی ترقی، تربیت، سرٹیفیکیشن اور ڈیٹا شیئرنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تاکہ لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے اور پیداواریت میں اضافہ ہو۔














