ایران اور امریکا کے درمیان ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری کشیدگی اور جنگ کے بعد ہونے والی 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اثرات عالمی منڈیوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی مقامی مارکیٹوں میں بھی آنا شروع ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے آنے والی اشیا مہنگی، سرحدی تجارت بھی متاثر ہونے کا خدشہ
ایران امریکا کشیدگی کے دوران سرحدی تجارت شدید متاثر ہوئی تھی جس کے باعث ایران سے آنے والی اشیا کی فراہمی کم ہوگئی تھی۔ اس صورتحال کے نتیجے میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کی مختلف مارکیٹوں میں ایرانی مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ایرانی تجارت سے وابستہ تاجر مقدس احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جنگ کے دوران ایران سے آنے والی اشیا کی مقدار بہت کم ہوگئی تھی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں قلت پیدا ہوگئی اور قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ان کے مطابق ایرانی قالین، کمبل، تعمیرات کا سامان اور دیگر گھریلو اشیا کی قیمتیں خاصی بڑھ گئی تھیں کیونکہ سرحدی راستوں سے سامان کی آمد تقریباً رک گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سرحد کی بندش سے بلوچستان میں ایرانی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے بعد صورتحال آہستہ آہستہ بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے اور ابتدائی طور پر کوئٹہ کی مارکیٹوں میں قیمتوں میں 5 سے 10 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ان کے بقول جیسے ہی ایران سے سامان کی آمد دوبارہ معمول پر آئے گی، ویسے ہی مارکیٹ میں قیمتیں مزید کم ہوں گی اور کاروباری سرگرمیاں بھی بحال ہونا شروع ہوجائیں گی۔
دوسری جانب ایک اور تاجر محمد پراچہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت کا ایک بڑا حصہ خشک مصالحہ جات اور دیگر زرعی اجناس پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال ایران سے بڑی مقدار میں مصالحہ جات درآمد کیے جاتے تھے جبکہ پاکستان سے چاول ایران بھیجا جاتا تھا۔
ان کے مطابق ایران امریکا کشیدگی کے دوران سرحدی تجارت تقریباً رک گئی تھی جس کے باعث مارکیٹ میں اشیا کی کمی پیدا ہوئی اور قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔ محمد پراچہ نے بتایا کہ کئی مصالحہ جات کی قیمتوں میں فی بوری تقریباً پانچ ہزار روپے تک اضافہ دیکھنے میں آیا جس سے کاروبار شدید متاثر ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے کاروبار کا کتنا انحصار ایرانی اشیاء پر ہے؟
تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد صورتحال واضح ہونا شروع ہوگئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران سرحدی تجارت بتدریج بحال ہوجائے گی۔ ان کے مطابق جیسے ہی ایران سے سامان کی فراہمی معمول پر آئے گی تو نہ صرف اشیا کی قلت ختم ہوگی بلکہ قیمتوں میں بھی مزید کمی دیکھنے کو ملے گی۔
تاجروں کے مطابق اگر سرحدی تجارت مکمل طور پر بحال ہوجاتی ہے تو کوئٹہ سمیت بلوچستان کی مارکیٹوں میں ایرانی اشیائے ضرورت کی قیمتیں دوبارہ معمول پر آسکتی ہیں اور کاروباری سرگرمیاں بھی تیزی سے بحال ہونے کا امکان ہے۔













