بلوچستان کے کاروبار کا کتنا انحصار ایرانی اشیاء پر ہے؟

بدھ 17 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ 909 کلومیٹر پر محیط سرحد بانٹتے ہیں جس کا زمینی اور سمندری راستہ بلوچستان کے مکران ڈویژن سے ہو کر گزرتا ہے۔ گوادر کے سمندری راستے ایران کے علاقے چا بہار کی سمندری حدود سے ملتے ہیں جبکہ چاغی، نوشکی، دالبندین، نوکنڈی، تربت، تفتان سمیت کئی اہم گزرگاہوں سے ہوتے ہوئے بلوچستان کی سرحد ایران کے سیستان سے جا ملتی ہے۔

پاکستان اور ایران کی سرحد پر کئی دہائیوں سے دو طرفہ تجارت کا سلسلہ جاری ہے، اگر بات کی جائے بلوچستان کے کاروبار پر ایرانی اشیاء کے انحصار کی تو صوبے کا 30 سے 40 فیصد کاروبار کا دارومدار ایرانی اشیاء پر ہے۔ وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سابق صدر ایوان صنعت و تجارت بلوچستان فدا حسین نے بتایا کہ صوبے کا مکران ڈویژن کا مکمل انحصار ایرانی اشیاء پر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگ دو طرفہ تجارت پر زندگی کا گزر بسر کر رہے ہیں۔ چھوٹے تاجر روزانہ کی بنیاد پر اشیاء ضرورت ایران سے لاتے ہیں اور پھر انہیں فروخت کرکے اپنی زندگی کا پہیہ چلاتے ہیں۔

فدا حسین نے کہا کہ ایران سے قانونی طریقے سے 60 سے 70 اشیاء درآمد کی جاتی ہیں جن میں ایک پی جی، ڈامبر کا تیل، سیمنٹ، سریا، ٹائل، پیٹرو کیمیکل اشیاء، گھی، خوشک میوہ جات، اشیاء خورونوش سمیت بہت سی اشیاء ضرورت ایران سے بلوچستان اور پھر ملک کے دیگر حصوں میں بھجوائی جاتی ہیں۔

فدا حسین نے بتایا کہ بلوچستان اور ایران کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم ڈھائی ارب ڈالرز سے زائد ہے۔ یہ تجارتی حجم نہ صرف بلوچستان بلکہ ملکی معشیت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کو دو طرفہ تجارت کے لیے کسٹم کے معاملات کو آسان کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تجارتی حجم ڈھائی سے بڑھ کر 5 ارب ڈالر تک جا سکے۔

معاشی تجزیہ نگاروں کے مطابق بلوچستان میں غیر قانونی طریقے سے بھی ایرانی سرحد سے اسمگلنگ کا سلسلہ جاری ہے جس میں پیٹرول سمیت کئی اشیاء کو غیر قانونی راستوں سے بلوچستان لایا جاتا ہے۔ مکران ڈویژن اور بالخصوص صوبے کے سرحدی علاقوں میں لوگوں کا ذریعہ معاش اس سمگلنگ پر محیط ہے۔ تاہم اگر اس غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام کرکے قانونی طریقوں سے کیا جائے تو کاروباری حجم مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والا کاروباری طبقہ ایرانی صدر کے آئندہ دورے کو دوطرفہ تجارت کے لیے خوش آئند قرار دے رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم