حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کی کوریج کے لیے آنے والے بین الاقوامی میڈیا نمائندگان کے لیے باضابطہ گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔ وزرات اطلاعات کے مطابق امریکی اور ایرانی صحافیوں کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ویزا آن آرائیول کی سہولت حاصل ہوگی، جبکہ میڈیا کی نقل و حرکت، سیکیورٹی اور کوریج پر سخت ضابطے نافذ کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات: ’اسلام آباد ٹاکس‘ سینٹر قائم، کوریج کے لیے غیر ملکی میڈیا پہنچ گیا
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ٹاکس کی کوریج کے دوران میڈیا اہلکاروں کی نقل و حرکت صرف سرکاری شٹل سروس کے ذریعے ہوگی، جبکہ ریڈ زون میں داخلہ، فلم بندی اور ڈرون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

گائیڈ لائنز کے مطابق میڈیا اسٹیف کے لیے موونپک ہوٹل سینٹورس میں اسمبلی پوائنٹ اور جناح کنونشن سینٹر میں مرکزی میڈیا سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں سے کوریج کے انتظامات کیے جائیں گے۔ تمام صحافیوں کو سرکاری میڈیا پاس کے ذریعے ہی رسائی دی جائے گی۔
مزید کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کے باعث غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کیا جائے اور تمام معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کیا جائے۔ غیر ملکی صحافیوں کو اپنی رہائش کا انتظام خود کرنا ہوگا اور متعلقہ حکام کو اس کی اطلاع دینا لازم ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد مذاکرات: مقامی و غیر ملکی میڈیا کے لیے مفت شٹل سروس کا اعلان
حکام کے مطابق یہ اقدامات مذاکرات کی حساس نوعیت کے پیش نظر کیے گئے ہیں تاکہ میڈیا کوریج منظم، محفوظ اور مؤثر انداز میں جاری رہ سکے۔














