اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات، ایٹمی پروگرام اور پابندیاں مرکزی نکات

ہفتہ 11 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں امریکا اور ایران آمنے سامنے بیٹھ گئے ہیں، جہاں متعدد پیچیدہ اور حساس معاملات زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات حالیہ نازک جنگ بندی کو آگے بڑھانے اور کسی وسیع معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات 2 مختلف تجاویز کے گرد گھوم رہے ہیں، جن میں ایران کا 10 نکاتی فریم ورک اور امریکا کا 15 نکاتی منصوبہ شامل ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک نے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

مزید پڑھیں:ایران امریکا جنگ بندی کے بعد پاکستان کا عالمی امیج بہتر، رائے عامہ میں نمایاں مثبت تبدیلی، رپورٹ

مذاکرات کا سب سے اہم نکتہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہے۔ امریکا اس بات کی سخت یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، ساتھ ہی یورینیم افزودگی پر سخت پابندیاں اور انٹرنیشنل اامک انرجی ایجنسی کی جانب سے کڑی نگرانی بھی چاہتا ہے۔ دوسری جانب ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام اور افزودگی کے حق کو اپنی خودمختاری کا حصہ قرار دے رہا ہے۔

اقتصادی پابندیاں بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ ایران تمام امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کے فوری خاتمے اور بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکا مرحلہ وار نرمی کا حامی ہے، جسے ایران کی شرائط پر عملدرآمد سے مشروط کیا جائے۔

اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول بھی تنازع کا سبب ہے۔ ایران اس پر اپنے کردار کو تسلیم کروانا چاہتا ہے، جبکہ امریکا عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل آزادی اور تحفظ پر زور دے رہا ہے۔

خطے میں اثر و رسوخ کے معاملے پر بھی اختلافات ہیں۔ امریکا مشرق وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی مدد ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران ان گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہا ہے۔

ایران نے امریکی افواج کے انخلا اور عدم جارحیت کی ضمانت بھی مانگی ہے، تاہم امریکا نے اس حوالے سے کوئی آمادگی ظاہر نہیں کی۔

ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ امریکا اس پروگرام پر پابندیاں چاہتا ہے، جبکہ ایران اسے اپنے دفاع کا حق قرار دیتا ہے۔

مزید پڑھیں:کیا ایران امریکا جنگ بندی کے بعد کوئٹہ میں ایرانی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے؟

ذرائع کے مطابق حالیہ تنازعات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کا معاملہ بھی زیر غور ہے، جبکہ امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں پر حملوں کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

2 ہفتوں کی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ پیشرفت مرحلہ وار ہوگی، جس کا آغاز اعتماد سازی کے اقدامات سے کیا جائے گا۔ فوری کسی بڑے بریک تھرو کی امید کم ہے، تاہم مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنے اور جنگ بندی میں توسیع کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنگ کے بعد پہلی بار امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل

لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے دل کا دورہ پڑنے کے باعث اسپتال منتقل، حالت تشویشناک

شاہد آفریدی نے اسلام آباد مذاکرات کو خطے میں امن کے لیے خوش آئند قرار دے دیا

واٹس ایپ کا نیا فیچر: اب نامعلوم نمبرز کے اسٹیٹس بھی دیکھنا ممکن

بین الاقوامی پرواز میں بچے کی پیدائش، شہریت اور قانونی شناخت پر نئی بحث کا آغاز

ویڈیو

امریکا اور ایران ایک میز پر، آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟

عرب میڈیا سے تعلق رکھنے والی صحافی پاکستانیوں سے متاثر، امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی اہم قرار دیدی

ایران، امریکا کو ایک جگہ بٹھانا بڑی کامیابی ہے، پاکستان دنیا کو کشیدگی سے بچانے کی راہ پر گامزن ہے، جرمن صحافی اسٹیفن شوارزکوف

کالم / تجزیہ

معرکۂ امن، اسلام آباد کی دہلیز پر بدلتی دنیا

وہیل چیئر پر دنیا کی سیاحت کرنے والی مہم جُو خواتین

اسلام آباد میں آخری اوور