کیا ایران امریکا جنگ بندی کے بعد کوئٹہ میں ایرانی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے؟

ہفتہ 11 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری کشیدگی اور جنگ کے بعد ہونے والی 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اثرات عالمی منڈیوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی مقامی مارکیٹوں میں بھی آنا شروع ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران سے آنے والی اشیا مہنگی، سرحدی تجارت بھی متاثر ہونے کا خدشہ

ایران امریکا کشیدگی کے دوران سرحدی تجارت شدید متاثر ہوئی تھی جس کے باعث ایران سے آنے والی اشیا کی فراہمی کم ہوگئی تھی۔ اس صورتحال کے نتیجے میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کی مختلف مارکیٹوں میں ایرانی مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ایرانی تجارت سے وابستہ تاجر مقدس احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جنگ کے دوران ایران سے آنے والی اشیا کی مقدار بہت کم ہوگئی تھی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں قلت پیدا ہوگئی اور قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ان کے مطابق ایرانی قالین، کمبل، تعمیرات کا سامان اور دیگر گھریلو اشیا کی قیمتیں خاصی بڑھ گئی تھیں کیونکہ سرحدی راستوں سے سامان کی آمد تقریباً رک گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی سرحد کی بندش سے بلوچستان میں ایرانی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے بعد صورتحال آہستہ آہستہ بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے اور ابتدائی طور پر کوئٹہ کی مارکیٹوں میں قیمتوں میں 5 سے 10 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ان کے بقول جیسے ہی ایران سے سامان کی آمد دوبارہ معمول پر آئے گی، ویسے ہی مارکیٹ میں قیمتیں مزید کم ہوں گی اور کاروباری سرگرمیاں بھی بحال ہونا شروع ہوجائیں گی۔

دوسری جانب ایک اور تاجر محمد پراچہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت کا ایک بڑا حصہ خشک مصالحہ جات اور دیگر زرعی اجناس پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال ایران سے بڑی مقدار میں مصالحہ جات درآمد کیے جاتے تھے جبکہ پاکستان سے چاول ایران بھیجا جاتا تھا۔

ان کے مطابق ایران امریکا کشیدگی کے دوران سرحدی تجارت تقریباً رک گئی تھی جس کے باعث مارکیٹ میں اشیا کی کمی پیدا ہوئی اور قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔ محمد پراچہ نے بتایا کہ کئی مصالحہ جات کی قیمتوں میں فی بوری تقریباً پانچ ہزار روپے تک اضافہ دیکھنے میں آیا جس سے کاروبار شدید متاثر ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے کاروبار کا کتنا انحصار ایرانی اشیاء پر ہے؟

تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد صورتحال واضح ہونا شروع ہوگئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران سرحدی تجارت بتدریج بحال ہوجائے گی۔ ان کے مطابق جیسے ہی ایران سے سامان کی فراہمی معمول پر آئے گی تو نہ صرف اشیا کی قلت ختم ہوگی بلکہ قیمتوں میں بھی مزید کمی دیکھنے کو ملے گی۔

تاجروں کے مطابق اگر سرحدی تجارت مکمل طور پر بحال ہوجاتی ہے تو کوئٹہ سمیت بلوچستان کی مارکیٹوں میں ایرانی اشیائے ضرورت کی قیمتیں دوبارہ معمول پر آسکتی ہیں اور کاروباری سرگرمیاں بھی تیزی سے بحال ہونے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے: شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ