ماہر امورِ خارجہ زنیرہ اظہر نے اسلام آباد مذاکرات کو ایک بڑی پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 40 سالہ پرانے تنازع کو راتوں رات ختم نہیں کیا جا سکتا، تاہم فریقین کا مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہی بذاتِ خود ایک خوش آئند قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو اسلام آباد میں اہم امن مذاکرات کی میزبانی پر فخر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کی صورتحال کا گہرائی سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے زنیرہ اظہر نے واضح کیا کہ کسی بھی بڑے عالمی تنازع میں فوری طور پر بہت بڑی توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں، کیونکہ اتنے بڑے تصادم کے بعد فریقین کا کسی ایک نقطے پر جمع ہونا ہی سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے۔
زنیرہ اظہر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں سب سے پہلی ترجیح فوری جنگ بندی ہونی چاہیے تاکہ سویلین انفراسٹرکچر کی تباہی کو روکا جا سکے اور انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر بعض مذاکرات مہینوں اور سالوں تک محیط رہے ہیں، لہٰذا اگر اسلام آباد مذاکرات کے لیے ڈیڈ لائن میں اضافہ بھی کرنا پڑے تو اسے قیامِ امن کی سمت ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات، مذاکراتی عمل میں معاونت کے عزم کا اعادہ
ان کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر اس عمل کو منطقی انجام کی طرف لے جایا جائے کیونکہ دونوں فریقین اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ یہ مسئلہ عسکری طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ ہو یا مستقل امن کا قیام، یہ تمام مراحل وقت طلب ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ امن کی جانب سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں ان مذاکرات پر جمی ہوئی ہیں اور یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ چالیس سال سے جاری کشیدگی کو سفارت کاری کے ذریعے کم کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: گلگت بلتستان میں پاکستان آرمی کی حمایت میں بڑی ریلیاں
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ بات چیت صرف نشست و برخاست تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس سے خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی۔













