ایران و امریکا کی 40 سالہ دشمنی کا سفر: دونوں حریف مذاکرات تک کیسے پہنچے؟

ہفتہ 11 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے تعلقات سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب اور تہران میں امریکی سفارت خانے پر یرغمالی بحران کے بعد مسلسل کشیدہ اور دشمنی پر مبنی رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات جاری، پاکستان کا امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرنے کا عزم

4 دہائیوں سے زائد عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان کئی بحران، پابندیاں، فوجی کارروائیاں اور سفارتی کشیدگیاں دیکھنے میں آئیں۔

اب سنہ 2026 میں دونوں ملک ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں جہاں اسلام آباد میں جاری جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات ہو رہے ہیں۔

1979: یرغمالی بحران اور تعلقات کا خاتمہ

نومبر 1979 میں ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملہ کر کے 52 امریکی اہلکاروں کو 444 دن تک یرغمال بنایا۔ اس واقعے کے بعد امریکا نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے اور تجارتی پابندیاں عائد کر دیں۔

سنہ 2002 اور بڑھتی کشیدگی

سنہ2002 میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ایران کو عراق اور شمالی کوریا کے ساتھ’ایکسز آف ایول (شر کا محور) قرار دیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی مزید بڑھ گئی۔

سنہ 2018 جوہری معاہدے سے امریکا کا اخراج

سنہ2015  میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا جس کے تحت ایران پر پابندیاں نرم کی گئیں۔ تاہم سنہ 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور دوبارہ سخت پابندیاں لگا دیں۔

2020 ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا قتل

سنہ2020  میں امریکا نے بغداد میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں شہید کردیا جس کے بعد ایران نے عراق میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے کیے۔

2025 جوہری تنصیبات پر حملے

سنہ2025 میں مشرقِ وسطیٰ میں 12 روزہ جنگ کے دوران امریکا نے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جس سے خطے میں کشیدگی انتہائی بڑھ گئی۔

2026 سپریم لیڈر کی شہادت اور نئی جنگ

فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

مزید پڑھیے: ’دیکھا جائے گا کہ صورتحال کس طرف جاتی ہے‘، ڈونلڈ ٹرمپ کا اسلام آباد مذاکرات پر تبصرہ

ایران نے اس کے جواب میں میزائل حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو بند کردی جس سے عالمی معیشت متاثر ہوئی۔

اپریل 2026: اسلام آباد میں اہم مذاکرات

موجودہ جنگ بندی کے بعد جس کے تحت مشرق وسطیٰ میں عارضی طور پر لڑائی رکی ہوئی ہے اور امریکا و ایران کے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد میں مذاکرات کر رہے ہیں۔

یہ جنگ بندی 22 اپریل تک مؤثر ہے اور اس کے مستقبل کا انحصار ان مذاکرات کے نتائج پر ہے۔

اسلام آباد امن مذاکرات

پاکستان نے خطے بلکہ دنیا کو تباہی سے بچانے کے لیے اس امن معاہدے کے لیے انتھک اور مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔

اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شبانہ روز تگ و دو، ٹیلوفونک و بالمشافہ عالمی رابطے اور متعلقہ ممالک کے دورے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں جن کی بدولت آج دنیا کی سپر پاور اور برادر اسلامی ملک ایک ساتھ میز پر بیٹھے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی، اسلام آباد میں امن مذاکرات پر خواتین کی رائے

دنیا بھی پاکستان کی ان بے لوث اور مخلصانہ کاوشوں کی معترف ہوچکی ہے بلکہ اس حد تک بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان (یا اس کی اعلیٰ شخصیات) اس پر نوبیل امن پرائز کا حقدار ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنگ کے بعد پہلی بار امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل

لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے دل کا دورہ پڑنے کے باعث اسپتال منتقل، حالت تشویشناک

شاہد آفریدی نے اسلام آباد مذاکرات کو خطے میں امن کے لیے خوش آئند قرار دے دیا

واٹس ایپ کا نیا فیچر: اب نامعلوم نمبرز کے اسٹیٹس بھی دیکھنا ممکن

بین الاقوامی پرواز میں بچے کی پیدائش، شہریت اور قانونی شناخت پر نئی بحث کا آغاز

ویڈیو

امریکا اور ایران ایک میز پر، آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟

عرب میڈیا سے تعلق رکھنے والی صحافی پاکستانیوں سے متاثر، امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی اہم قرار دیدی

ایران، امریکا کو ایک جگہ بٹھانا بڑی کامیابی ہے، پاکستان دنیا کو کشیدگی سے بچانے کی راہ پر گامزن ہے، جرمن صحافی اسٹیفن شوارزکوف

کالم / تجزیہ

معرکۂ امن، اسلام آباد کی دہلیز پر بدلتی دنیا

وہیل چیئر پر دنیا کی سیاحت کرنے والی مہم جُو خواتین

اسلام آباد میں آخری اوور