بھارت کے قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے ہفتے کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ایپسٹین فائلز کے ذریعے دباؤ کا شکار ہیں اور انہوں نے بھارت کے مفادات غیر ملکی طاقتوں کے حوالے کر دیے ہیں۔
راہول گاندھی نے ریاست تمل ناڈو میں انتخابی مہم کے دوران جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے ایسے معاہدے کیے جن سے بھارت کی توانائی سلامتی، کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور ڈیٹا کو نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیے: مودی نے امریکی دباؤ کے آگے جھک کر کسانوں کی محنت بیچ دی، راہول گاندھی
انہوں نے جلسے سے خطاب میں کہا، ‘انہیں ایپسٹین فائلز کے ذریعے قابو میں رکھا جا رہا ہے کیونکہ ان کے مالی نظام کے بارے میں معلومات موجود ہیں۔’
راہول گاندھی نے مزید کہا کہ مودی نے بھارت اور امریکا کے درمیان ایسا معاہدہ کیا جس نے ملک کو فروخت کر دیا۔ ان کے بقول اس معاہدے سے توانائی سلامتی کمزور ہوئی، کسان متاثر ہوئے اور مقامی صنعت کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جس طرح مودی خود سمجھوتہ شدہ قیادت ہیں، اسی طرز پر تمل ناڈو میں بھی کمزور حکومت مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
راہول گاندھی نے پارلیمنٹ میں مودی کے رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ اعتماد سے محروم دکھائی دے رہے تھے اور اپوزیشن کا سامنا نہیں کر سکے۔
انہوں نے ایک متنازع بل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلی کر کے جنوبی اور چھوٹی ریاستوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی، مگر اپوزیشن نے اسے ناکام بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایپسٹین نے خود کو ٹرمپ کا خاص بندہ ظاہر کرتے ہوئے امبانی کی رہنمائی کی، نیویارک ٹائمز
ریاست تمل ناڈو میں 23 اپریل کو ایک مرحلے میں انتخابات ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ ادھر نریندر مودی نے بھی ہفتے کے روز کوئمبتور میں انتخابی جلسہ کیا۔
اپوزیشن اتحاد نے عوام کے لیے کئی معاشی وعدے بھی کیے ہیں، جن میں خواتین، بزرگ شہریوں اور معذور افراد کے لیے ماہانہ 21.6 ڈالر امداد، طلبہ کے لیے 21.6 ڈالر وظیفہ، خوراک کے لیے 27 ڈالر ماہانہ معاونت، اور سرکاری ملازمتوں میں 300 دن کے اندر بھرتیاں شامل ہیں۔












