روس کی سرکاری نیوکلیئر کمپنی ’روساتم‘ کے سی ای او، الیکسی لیخاچیف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو سنبھالنے کے لیے تیار ہے، اور یہ پیشکش ابھی تک میز پر ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
الیکسی لیخاچیف نے کہا کہ روساتم ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 میں بھی روس نے ایران کی درخواست پر افزودہ یورینیم کو اپنے ملک منتقل کیا تھا، اور وہ آج بھی اس نازک معاملے میں تکنیکی اور اعتمادی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
About time this was offered!
Russia offers to accept Iran's enriched uranium as part of a potential agreement with the US
Iran war, Trump, Iran blockade, pic.twitter.com/fM7Tn8CDiH
— MidnightVisions (@MidnightVision5) April 14, 2026
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی کا بھی معاملہ ہے، جس کے لیے روس تیار ہے۔
ایران کا جوہری پروگرام واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات کو ختم کرے اور اپنے یورینیئم کا ذخیرہ امریکا کے حوالے کرے، جسے تہران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
روس کی پیشکش، جسے ایران نے کچھ آمادگی دکھائی تھی، کرملین کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق، امریکا نے مسترد کر دی ہے۔
IRAN WILL NOT GIVE UP ITS SOVEREIGNTY AND IRANIANS WILL NOT ALLOW ANYONE TO TAKE AWAY IS RIGHT TO ENRICH URANIUM NOW IRAN IS QUITEWILLING TOCREATE ASSURANCES SO THAT IF UNITED STATES IS SINCERELY CONCERNED ABOUT IRANS 🇮🇷 NUCLEAR PROGRAM THOSEASSURANCES CAN RESOLVE THOSE CONCERNS pic.twitter.com/3M1iYZaptE
— Steve Adams (@SteveAd13487346) April 19, 2026
ایران نے یورینیئم کے ذخیرے کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کیا ہے، اسے ’ایرانی سرزمین کی طرح مقدس‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ امریکی مطالبات کو حد سے زیادہ سمجھتے ہیں اور انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ایران نے اس کے بجائے آئی اے ای اے کی نگرانی میں اپنے یورینیئم کو ڈاؤن بلینڈ کرنے اور افزودگی پر محدود پابندیوں کی پیشکش کی ہے، لیکن وہ اپنی تنصیبات کو ختم کرنے یا اپنے ذخیرے کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔












