وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مستحق ٹرانسپورٹرز کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ڈیٹا کی غلطیوں کی وجہ سے کسی بھی قسم کی تاخیر قبول نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت سبسڈی کے عملدرآمد سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزرا شرجیل میمن اور مکیش چاولہ سمیت چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سیکریٹری ایکسائز سلیم راجپوت اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کا پاکستان کو ایندھن سبسڈی ختم، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کا مشورہ
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سندھ میں فیول سبسڈی اسکیم کے تحت 3 ہزار 976 گاڑیوں کو ادائیگیاں کی جا چکی ہیں جن کی مجموعی مالیت 14 کروڑ 67 لاکھ روپے بنتی ہے، جبکہ 5 ہزار سے زائد کیسز ڈیٹا میں غلطیوں کے باعث تصحیح کے مرحلے میں ہیں۔
وزیراعلیٰ نے تصدیقی عمل کو تیز کرنے اور 11 ہزار 980 اہل گاڑیوں کا مکمل ڈیٹا جلد از جلد مرتب کرنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے ٹرانسپورٹ اور ایکسائز محکموں کو وفاقی اداروں سے قریبی رابطہ رکھنے کا بھی کہا اور شناختی کارڈ، آئی بی این اور دیگر ڈیٹا کی غلطیوں کو فوری درست کرنے کا حکم دیا۔
انہوں نے ٹرانسپورٹ نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایکسائز ڈپارٹمنٹ میں موٹر رجسٹریشن، پی ٹی اے اور آر ٹی اے نظام کی خودکاری کا عمل جاری ہے۔
مراد علی شاہ نے ٹریفک اور موٹروے پولیس کے ساتھ نظام کے انضمام کی ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت اور کارکردگی میں بہتری لائی جائے۔
انہوں نے مزید کہاکہ بغیر روٹ پرمٹ یا فٹنس سرٹیفکیٹ چلنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، جبکہ رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے لیے روٹ پرمٹ کو لازمی قرار دیا جائے۔ فیلڈ چیکنگ اور جرمانوں کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی گئی۔
مزید پڑھیں: سبسڈی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، اسحاق ڈار کی ہدایت
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیاکہ قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ ٹرانسپورٹ، ایکسائز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ سبسڈی شفاف اور بروقت مستحق افراد تک پہنچ سکے۔














