روزمرہ استعمال کے دوران کی جانے والی چھوٹی چھوٹی غلطیاں چارجنگ کیبلز کو جلد خراب کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گزشتہ سال مقامی موبائل اسمبلنگ کی شرح کم کیوں رہی، کون سا موبائل زیادہ اسمبل ہوا؟
حالانکہ اکثر صارفین اس ٹیکنالوجی کو اس وقت تک نظر انداز کرتے ہیں جب تک ان کا فون بند ہونے کے قریب نہ پہنچ جائے۔
امریکی جامعہ میری لینڈ کے ایڈوانسڈ لائف سائیکل انجینئرنگ سینٹر کے بانی مائیکل پیچٹ کے مطابق ان کی لیبارٹری میں کیبلز پر مختلف تجربات کیے جاتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ چارجنگ کیبل کیوں خراب ہوجاتی ہیں اور نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر نقصان صارفین کے اپنے استعمال کے انداز سے ہوتا ہے۔
تار لپیٹنا اہم یا کچھ اور۔۔۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام خیال کے برعکس کیبل کو لپیٹنے کا طریقہ زیادہ اہم نہیں بلکہ اصل مسئلہ اس جگہ پیدا ہوتا ہے جہاں تار پلگ کے ساتھ جڑتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بار بار موڑنے، کھینچنے یا دباؤ ڈالنے سے اندر موجود باریک دھاتی تاریں کمزور ہو کر ٹوٹ جاتی ہیں۔
اگر کوئی شخص پلگ نکالتے وقت تار کو کھینچتا ہے یا فون استعمال کرتے ہوئے کیبل کو تیز زاویے پر موڑتا ہے تو اس سے کیبل کی عمر کم ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: پیسے کاٹ کر پیکج نہیں لگایا گیا، شہری موبائل سم کمپنی کے خلاف عدالت پہنچ گیا
تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ چھوٹی کیبلز کا استعمال بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ صارفین انہیں کھینچ کر استعمال کرتے ہیں جس سے اندرونی ساخت متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح گاڑی میں فون کو اس انداز میں رکھنا کہ اس کا وزن کیبل پر پڑے یا بستر پر لیٹ کر فون استعمال کرتے ہوئے کیبل کو زور سے موڑنا بھی اس کے ٹوٹنے کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا کہ کیبل کو لپیٹنے کے انداز پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بشرطیکہ اسے بہت زیادہ سختی سے نہ لپیٹا جائے یا تیز زاویے پر نہ موڑا جائے۔
تاہم اصل توجہ پلگ کے حصے کو احتیاط سے استعمال کرنے پر ہونی چاہیے کیونکہ یہی حصہ سب سے زیادہ حساس ہوتا ہے اور وہیں سے زیادہ تر خرابیاں شروع ہوتی ہیں۔
’سستا روئے بار بار‘
سستی اور ناقص معیار کی کیبلز بھی جلد خراب ہو جاتی ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ مضبوط اور بہتر معیار کی کیبلز خریدی جائیں خاص طور پر وہ جن پر کپڑے یا نائلون کی بنی ہوئی جالی ہو کیونکہ یہ زیادہ دیرپا اور محفوظ ثابت ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں: 2026 کے اختتام تک سام سنگ کے 800 ملین اسمارٹ ڈیوائسز اے آئی فیچرز سے لیس ہوجائیں گے
ماہرین کے مطابق اگرچہ کیبلز بظاہر ایک معمولی چیز لگتی ہیں لیکن غلط استعمال کے باعث یہ آہستہ آہستہ خراب ہوتی رہتی ہیں اور آخرکار اچانک کام کرنا بند کر دیتی ہیں اس لیے ان کا درست استعمال نہ صرف صارف کے پیسے بچا سکتا ہے بلکہ ماحول کے لیے بھی بہتر ہے۔












