جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں اپنی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 کے اختتام تک 800 ملین اسمارٹ ڈیوائسز کو اے آئی فیچرز سے لیس کرے گا۔ یہ ڈیوائسز بڑی حد تک گوگل کے جیمِنائی اے آئی ماڈل پر مبنی ہوں گی۔
سام سنگ الیکٹرونکس کے شریک چیف ایگزیکٹو اور موبائل، ٹی وی اور ہوم اپلائنسز ڈویژن کے سربراہ ٹی ایم روہ نے بتایا کہ کمپنی رواں سال اپنے موبائل ڈیوائسز میں گلیکسی اے آئی فیچرز کی تعداد دگنی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سام سنگ نے جدید اے آئی فیچرز سے مزین گلیکسی ایس 25 ایف ای متعارف کرادیا، اہم خصوصیات کیا ہیں؟
اس وقت تقریباً 400 ملین موبائل پروڈکٹس، جن میں اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس شامل ہیں، اے آئی فیچرز سے لیس ہیں، اور یہ تعداد 2026 کے اختتام تک 800 ملین تک بڑھائی جائے گی۔
ٹی ایم روہ کے مطابق سام سنگ کی حکمت عملی یہ ہے کہ کم سے کم وقت میں مصنوعی ذہانت کو تمام مصنوعات، تمام فیچرز اور تمام سروسز میں شامل کیا جائے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے گوگل کو اوپن اے آئی سمیت دیگر عالمی حریفوں کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن حاصل ہوگی۔
گوگل نے نومبر 2025 میں جیمِنائی کا نیا ورژن متعارف کرایا تھا، جس میں اے آئی ماڈل کی کارکردگی کے کئی عالمی پیمانوں پر نمایاں برتری کا دعویٰ کیا گیا۔ سام سنگ کی یہ حکمت عملی گوگل کے لیے بھی صارفین کی تعداد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
Samsung plans to double the number of mobile devices running Google’s Gemini-powered AI features to ~800M in 2026 (from ~400M last year), per Reuters.
Co-CEO TM Roh: “We will apply AI to all products, all functions, and all services as quickly as possible.” pic.twitter.com/0OeRowdfdj
— Wall St Engine (@wallstengine) January 5, 2026
سام سنگ کے داخلی سرویز کے مطابق صرف ایک سال کے دوران گلیکسی اے آئی برانڈ سے صارفین کی آگاہی 30 فیصد سے بڑھ کر 80 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال کچھ صارفین اے آئی ٹیکنالوجی کے بارے میں شکوک کا شکار ہیں، تاہم آئندہ 6 سے 12 ماہ میں یہ ٹیکنالوجی عام استعمال کا حصہ بن جائے گی۔
مارکیٹ ریسرچ ادارے کاؤنٹرپوائنٹ کے مطابق سام سنگ کا دعویٰ ہے کہ وہ اے آئی فیچرز کے معاملے میں ایپل پر برتری برقرار رکھنے کے لیے کنزیومر مصنوعات میں مربوط اے آئی سروسز فراہم کرے گا، حالانکہ گزشتہ سال ایپل سب سے بڑا اسمارٹ فون ساز ادارہ رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سام سنگ نئے ماڈلز کے رنگ افشا ہوگئے، ٹائٹینیم فریم کی امید ختم
رپورٹ کے مطابق سرچ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا اے آئی فیچر ہے، جبکہ صارفین تصاویر کی ایڈیٹنگ، پیداواری ٹولز، ترجمہ اور خلاصہ بنانے جیسے فیچرز بھی کثرت سے استعمال کر رہے ہیں۔
گلیکسی اے آئی دراصل سام سنگ کے اے آئی فیچرز کا مجموعہ ہے، جس میں گوگل کے جیمِنائی ماڈل کے ساتھ ساتھ سام سنگ کے اپنے بکس بی ماڈل پر مبنی فیچرز بھی شامل ہیں۔
سام سنگ کے حصص پیر کے روز 7.5 فیصد تک بڑھے، جبکہ کمپنی آئندہ دنوں چوتھی سہ ماہی میں منافع میں نمایاں اضافے کا عندیہ دینے جا رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر چِپس کی قلت بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سام سنگ کے 3 بار فولڈ ہونے والے اسمارٹ فون کا پہلا اسٹاک مارکیٹ میں آتے ہی فروخت ہوگیا
کاؤنٹرپوائنٹ کے مطابق 2025 کی تیسری سہ ماہی میں فولڈیبل اسمارٹ فون مارکیٹ کا تقریباً دو تہائی حصہ سام سنگ کے پاس تھا۔
تاہم مارکیٹ ریسرچ اداروں آئی ڈی سی اور کاؤنٹرپوائنٹ کا کہنا ہے کہ سال 2026 میں عالمی اسمارٹ فون مارکیٹ میں سکڑاؤ کا امکان ہے، کیونکہ میموری چِپس کی قلت سے فونز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور سام سنگ کو ہواوے سمیت چینی کمپنیوں اور ایپل کے مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان حالات میں سام سنگ نہ صرف اسمارٹ فون مارکیٹ میں ایپل سے اپنی برتری واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ ٹیلی ویژن اور گھریلو آلات کے شعبے میں بھی چینی حریفوں کے مقابلے کے لیے مصنوعی ذہانت کو کلیدی ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔














