ایران نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
غیرملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہاکہ ایران نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے مرحلے میں مکمل سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی۔ تاہم ان کے مطابق امریکا نے جنگ بندی مذاکرات کے دوران سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اپنے مؤقف میں بار بار تبدیلی کرتا رہا۔
اسماعیل بقائی نے امریکی صدر کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات دھمکی آمیز انداز اپنایا جاتا رہا، جس میں ایران کے بنیادی ڈھانچے جیسے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی باتیں بھی شامل ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
ایرانی ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی بدستور برقرار ہے جسے ایران جارحیت قرار دیتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ امریکی بحریہ نے حالیہ دنوں میں ایک ایرانی جہاز کو فائرنگ کے بعد تحویل میں لیا، جو جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری کے تحفظ اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے لیے اسلام آباد کی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔
یاد رہے کہ اپریل میں پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان 1979 کے بعد پہلی بار اعلیٰ سطح کے براہ راست مذاکرات ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں مذاکرات کا دوسرا دور منعقد نہ ہو سکا۔
تاہم اب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جمعے کو ہو سکتا ہے۔












