سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر ابھا میں اس وقت جیکرینڈا کے پھولوں کا سالانہ سیزن عروج پر ہے، جہاں سڑکیں اور پارک جامنی رنگ کے دلکش مناظر میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
یہ نظارہ عسیر ریجن کے منفرد پہاڑی ماحول کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کو ایک اہم موسمی سیاحتی مرکز کے طور پر مزید مقبول بنا رہا ہے۔
شہر کی بڑی شاہراہوں اور پیدل راستوں کے اطراف جیکرینڈا کے درخت قطار در قطار لگے ہوئے ہیں، جن کے پھول ایک قدرتی راہداری کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کو عالمی سیاحتی مرکز بنانے کی جانب اہم قدم، تشہیر کے لیے خصوصی طیارہ متعارف
یہ دلکش نظارے مقامی افراد، سیاحوں، فوٹوگرافرز اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئیٹرز کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، اس سیزن اور معتدل بہاری موسم کے باعث سیاحوں کی تعداد اور مقامی سیاحتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
علاقائی بلدیہ کے مطابق، ابھا میں 14 ہزار سے زائد جیکرینڈا کے درخت موجود ہیں، جو سبزہ بڑھانے اور شہری ماحول کو بہتر بنانے کی ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
Jacaranda season transforms Abha streets and parks into purple views pic.twitter.com/sQSeOYkoHt
— KSA Expats (@ksaexpats) April 25, 2026
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مزید سڑکوں اور عوامی مقامات پر درخت لگائے جائیں گے، تاکہ ماحولیاتی پائیداری کے اہداف حاصل کیے جا سکیں اور شہری زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
بلدیاتی حکام کے مطابق، شجرکاری مہمات کے نتیجے میں نہ صرف سبزہ بڑھا ہے بلکہ مقامی موسمی حالات میں بھی بہتری آئی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، اس کے ساتھ شہر کی خوبصورتی اور ایکو ٹورازم کے امکانات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:قدرتی تنوع اور ثقافتی ورثے کے ساتھ جازان شہر سعودی عرب کا اہم سیاحتی مرکز
جیکرینڈا سیزن اب ابھا کی نمایاں قدرتی پہچان بن چکا ہے، جو ملک بھر اور بیرونِ ملک سے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔
اسی سلسلے میں کنگ خالد یونیورسٹی نے مختلف عوامی تقریبات کا انعقاد کیا ہے، جن میں 10، 21 اور 50 کلومیٹر کی جیکرینڈا ریس شامل ہے۔
اس کے علاوہ یونیورسٹی نے جیکرینڈا سے مزین راستوں پر واکنگ سرگرمیاں اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق آگاہی مہمات بھی شروع کی ہیں۔














