بغیر بجلی چلنے والا نیا کولنگ سسٹم متعارف، ایئر کنڈیشنرز کا متبادل قرار

اتوار 26 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے ایک نیا کولنگ سسٹم تیار کیا ہے جو بجلی کے بغیر کام کرتا ہے اور روایتی ایئر کنڈیشننگ نظام پر انحصار کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بجلی کی محدود دستیابی کے تناظر میں تیار کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایئر کنڈیشنر لگاتے وقت کن باتوں کو مدنظر رکھا جائے؟

محققین کے مطابق دنیا بھر میں گرمی کی شدت اور ہیٹ ویوز میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بڑی تعداد میں آبادی کو اب بھی قابلِ اعتماد بجلی تک رسائی حاصل نہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 70 کروڑ سے زیادہ افراد بجلی سے محروم ہیں، جس کے باعث کم لاگت اور پائیدار کولنگ سسٹمز کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

یہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟

اس نظام کو (Nescod (No Electricity and Sustainable Cooling on Demand کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نظام کمپریسر یا الیکٹرک موٹرز کے بجائے امونیم نائٹریٹ پر انحصار کرتا ہے، جو عام طور پر کھادوں میں استعمال ہونے والا ایک مرکب ہے۔

ماہرین کے مطابق جب امونیم نائٹریٹ پانی میں حل ہوتا ہے تو یہ اردگرد سے حرارت جذب کرتا ہے، جسے سائنسی اصطلاح میں اینڈوتھرمک ڈیزولوشن کہا جاتا ہے۔ اسی عمل کے نتیجے میں ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے۔

تجربات میں مؤثر نتائج

محققین کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹس میں دیکھا گیا کہ امونیم نائٹریٹ اور پانی کے امتزاج سے درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو کر صرف 3.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک آ گیا، اور یہ عمل 20 منٹ میں مکمل ہوا۔

رپورٹ کے مطابق یہ نظام دیگر نمکیات جیسے امونیم کلورائیڈ کے مقابلے میں قریباً 4 گنا زیادہ مؤثر ثابت ہوا ہے۔

ماہرین نے کہا کہ یہ مادہ کم قیمت، آسانی سے دستیاب اور محفوظ طریقے سے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔

شمسی توانائی سے ری جنریشن

اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ استعمال کے بعد اسے دوبارہ فعال کرنے کے لیے بجلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے کے لیے شمسی توانائی استعمال کی جاتی ہے، جس کے بعد امونیم نائٹریٹ دوبارہ کرسٹل شکل اختیار کر لیتا ہے اور دوبارہ استعمال کے قابل ہو جاتا ہے۔

اس عمل کے دوران حاصل ہونے والا پانی بھی شمسی کشیدگی کے ذریعے دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے، جس سے ضیاع کم ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب: نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی اور دفاتر میں ایئرکنڈیشن کم استعمال کرنے کی ہدایت

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا بھر میں ایئر کنڈیشننگ نظام عالمی بجلی کے تقریباً 10 فیصد استعمال کا باعث ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام بجلی کی کھپت اور کاربن اخراج میں نمایاں کمی لا سکتا ہے، خصوصاً ان ممالک میں جہاں شدید گرمی اور کولنگ کی طلب زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر تیار کیا جائے تو یہ ان علاقوں کے لیے ایک مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہے جہاں بجلی اور پانی دونوں کے محدود وسائل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ون ڈے سیریز، پاکستان و زمبابوے کی کپتان فتح حاصل کرنے کے لیے پرعزم

پی ایس ایل 11: فاتح اور رنر اپ ٹیم کو کتنی انعام رقم ملے گی؟ تفصیلات سامنے آگئیں

میٹا کو نیو میکسیکو میں ٹرائل کا سامنا، فیس بک اور انسٹاگرام میں بڑی تبدیلیوں کا امکان

ہماری جماعت کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں، بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کا اظہار تشویش

ڈیجیٹل تبدیلی اور معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مضبوط سائبر سیکیورٹی وقت کی ضرورت ہے، وزیر خزانہ

ویڈیو

پی ایس ایل فائنل: حیدرآباد کنگز مین کے شائقین ٹرافی جیتنے کے لیے پُرامید

ڈرونز سے ایران کی نگرانی، کیا کسی بڑے حملے کی خفیہ تیاریاں ہورہی ہیں؟

ٹرمپ کا کانگریس کو خط، ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان

کالم / تجزیہ

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ

چندی گڑھ میں لاہوری