سعودی عرب میں 20 سال سے مقیم پاکستانی ظہیر عباسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب روزگار کے مواقع کے حوالے سے ایک بہترین ملک ہے جہاں تمام افراد کے لیے قانون یکساں طور پر نافذ ہوتا ہے، چاہے وہ مقامی شہری ہوں یا غیر ملکی ہوں۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سعودی حکومت اور عوام پاکستانیوں کے ساتھ دوستانہ اور محبت بھرا رویہ رکھتے ہیں، بہت سے پاکستانی ایسے ہیں جنہوں نے سعودی عرب جا کر نہ صرف اپنے خاندانوں کی مالی حالت بہتر بنائی بلکہ واپس آکر پاکستان میں کامیاب کاروبار بھی شروع کیے۔
مزید پڑھیں: پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے اہم ملاقات
ظہیر عباسی نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پہلی بار 2007 میں سعودی عرب گئے اور وہاں جا کر انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ پاکستان میں ہی موجود ہوں۔
انہوں نے کہاکہ سعودی حکومت اور عوام پاکستانیوں کے ساتھ دوستانہ اور محبت بھرا رویہ رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے پردیس میں اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔
ظہیر عباسی نے کہاکہ سعودی عرب میں قانون کی عملداری قابلِ تعریف ہے۔ اگر کوئی بھی فرد، چاہے وہ سعودی ہو یا پاکستانی، کسی جرم کا ارتکاب کرے تو اس کے لیے سزا یکساں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں انصاف کا نظام مضبوط اور مؤثر نظر آتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ تمیمی گروپ سے وابستہ ہیں اور اس گروپ میں تقریباً 50 ہزار سے زیادہ افراد کام کر رہے ہیں، جن میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی بھی ہے۔
ان کے مطابق بہت سے پاکستانی ایسے ہیں جنہوں نے سعودی عرب جا کر نہ صرف اپنے خاندانوں کی مالی حالت بہتر بنائی بلکہ واپس آ کر پاکستان میں کامیاب کاروبار بھی شروع کیے۔
انہوں نے کہاکہ سعودی عرب میں کرنسی کی قدر بھی مضبوط ہے اور وہاں کم پیسوں میں بھی معیاری کھانا اور بنیادی ضروریات بآسانی پوری ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی کے پاس 20 ریال بھی ہوں تو وہ باعزت طریقے سے کھانا کھا سکتا ہے۔
ظہیر عباسی نے مذہبی پہلو پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب جانے کا سب سے بڑا فائدہ مقدس مقامات کی زیارت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کرے اور اس موقع سے روحانی فائدہ حاصل کرے۔
انہوں نے مزید کہاکہ سعودی عرب میں مختلف قومیتوں کے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا، بلکہ سب کے ساتھ برابر کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ وہاں کا نظام اس قدر مضبوط ہے کہ کوئی بھی فرد دھوکہ دہی یا فراڈ کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
مزید پڑھیں: کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان سعودی عرب اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کاخیر مقدم
انہوں نے پاکستانیوں کو مشورہ دیا کہ وہ بہتر روزگار اور روشن مستقبل کے لیے سعودی عرب جانے کی کوشش کریں، جہاں محنت اور دیانتداری کے ساتھ کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔













