بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے ایک مرتبہ پھر ملکی اداروں پر بے بنیاد الزام لگاکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب اپنے مقاصد پورے نہیں ہوں گے تو وہ کسی کو بھی بخشنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
علیمہ خان اور پی ٹی آئی کے نزدیک حق اور قانون صرف وہ ہے جو ان کے مفاد میں ہو، باقی ہر چیز انہیں سازش، دباؤ یا کسی کے اشارے پر ہوتی نظر آتی ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف عوام کی توہین ہے بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ پر کھلا حملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی سیکریٹری خارجہ نے عمران خان کو ملک چھوڑنے کی پیشکش کی، علیمہ خان کا انکشاف
یہ وہی لوگ ہیں جو عدالتوں سے ریلیف ملے تو جشن مناتے ہیں، اور جیسے ہی فیصلہ خلاف آئے تو معزز ججز پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیتے ہیں، آئے دن عدالتوں کے خلاف پروپیگنڈا، گھٹیا مہمات اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ رویہ صرف غیر ذمہ دارانہ نہیں بلکہ کھلی بلیک میلنگ ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ اپنی کمزوریاں چھپانے اور احتساب سے بھاگنے کی یہ ایک منظم حکمتِ عملی ہے۔ جو لوگ دن رات انصاف کی حکمرانی کے نعرے لگاتے تھے، وہی آج احتساب کے سامنے کھڑے ہونے سے کترا رہے ہیں، کبھی صحت کا بہانہ، کبھی کوئی اور جواز۔ مگر اب این آر او کی سیاست کا باب بند ہو چکا ہے، اور قانون کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کی خواہش مزید نہیں چلے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پارٹی کے خلاف چارج شیٹ، کیا علیمہ خان پی ٹی آئی قیادت کے ہاتھ سے نکل گئیں؟
پی ٹی آئی کی پوری سیاست اب اداروں کو متنازع بنانے اور عوام میں بداعتمادی پھیلانے تک محدود ہوچکی ہے۔ ہر فیصلے کو سازش قرار دینا دراصل اپنی ناکامیوں اور کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔
حقیقت واضح ہے: قانون نہ کسی فرد کا غلام ہے اور نہ کسی جماعت کا۔ قانون اپنے تقاضے پورے کرے گا. چاہے کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔ اور اس ملک کے ساتھ جو کھیل کھیلا گیا ہے، اس کا حساب دینا ہی پڑے گا۔














