زندہ دفن ہو جانے کا خوف انسانی تاریخ جتنا ہی پرانا ہے۔ دنیا بھر میں یہ ایک عام فوبیا سمجھا جاتا ہے جس نے نہ صرف خوفناک کہانیوں کو جنم دیا بلکہ بعض اوقات حقیقی واقعات میں بھی تبدیل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ابتدا میں انسان کس خطے میں مقیم تھا، قدیم کھوپڑی نے نئے راز کھول دیے
تاریخ کے مختلف ادوار میں لوگوں نے قبل از وقت تدفین سے بچنے کے لیے کئی غیر معمولی اور حیران کن طریقے اختیار کیے۔ اگرچہ جدید دور میں طبی معائنے کی وجہ سے یہ مسئلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے لیکن ان میں سے کچھ طریقے اب بھی کہیں نہ کہیں استعمال ہوتے ہیں۔
ذیل میں زندہ دفن ہونے سے بچنے کے 8 عجیب طریقے پیش کیے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر سے تصدیق کروانا
آج کے دور میں یہ عام بات ہے کہ موت کی تصدیق ڈاکٹر کرتا ہے لیکن ماضی میں یہ رواج نہیں تھا۔
19 ویں صدی کے آخر میں یہ طریقہ عام ہوا جب نیویارک میں سنہ 1899 میں قانون بنایا گیا کہ موت کی تصدیق ڈاکٹر کرے گا۔
مزید پڑھیے: یونان میں دنیا کے قدیم ترین لکڑی کے اوزار دریافت، لاکھوں سال محفوظ رہنے پر سائنسدان حیران
اس عمل کو پہلے اس لیے نہیں اپنایا جاتا تھا کہ اس وقت باقاعدہ طبی ماہرین موجود نہیں تھے۔ حتیٰ کہ ابتدائی ادوار کے سب سے ماہر ڈاکٹر بھی زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے بس دل کی دھڑکن سننے تک محدود تھے جو کام کوئی بھی شخص کر سکتا تھا۔
دل کی دھڑکن سن کر موت کی تصدیق کرنا کبھی کبھار غیر مؤثر ثابت ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ مختلف غیر روایتی طریقوں جیسے سیفٹی تابوت یا سوئی چبھو کر چیک کرنا استعمال کرتے تھے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ دفن ہونے والا شخص واقعی مردہ تھا۔
سیفٹی تابوت
18ویں اور 19ویں صدی میں ایسے تابوت بنائے گئے جن میں گھنٹی، رسیاں اور ہوا کے نلکے ہوتے تھے تاکہ اگر کوئی زندہ دفن ہو جائے تو وہ مدد کے لیے اشارہ کر سکے۔
مزید پڑھیں: ’خاندانی نام برائے فروخت‘: کوریا میں ہر دوسرا شخص کم، لی یا پارک کیوں ہوتا ہے؟
سیفٹی تابوت ایک خصوصی تابوت ہوتا تھا جو اس مقصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ اگر کسی شخص کو غلطی سے مردہ سمجھ کر دفن کر دیا جائے تو وہ تابوت کے اندر سے مدد کے لیے اشارہ کر سکے۔ یہ 18ویں اور 19ویں صدی میں زیادہ مقبول تھا خاص طور پر اس وقت جب طبی طریقے اتنے جدید نہیں تھے اور موت کی تصدیق میں غلطی کا امکان ہوتا تھا۔
اس تابوت میں کئی حفاظتی خصوصیات شامل کی جاتی تھیں جیسے ہوا کی نالیاں جو زندہ شخص کو سانس لینے کی اجازت دیتی تھیں اور گھنٹیاں یا الارم کے نظام تاکہ دفن ہونے والے شخص کے زندہ ہونے کا پتا چل سکے۔ اس کے علاوہ کچھ سیفٹی تابوتوں میں ایک رسی یا ڈوری بھی ہوتی تھی جسے کھینچ کر تابوت میں موجود شخص اپنی حالت کی اطلاع دے سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟
یہ تمام خصوصیات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تھیں کہ اگر کسی شخص کو زندہ دفن کیا جائے تو وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے زندہ ہونے کا پتا دے سکے۔
سوئی چبھو کر جانچ
مردہ جسم میں درد نہیں ہوتا، اس لیے انگلیوں یا پیروں میں سوئی چبھو کر موت کی تصدیق کی جاتی تھی۔ بعض اوقات ناخنوں کے نیچے بھی سوئیاں لگائی جاتیں۔
سانس چیک کرنے کے طریقے
لوگ پنکھ یا ہلکے کپڑے کو ناک کے قریب رکھ کر سانس چیک کرتے تھے۔ بعد میں آئینہ منہ پر رکھ کر دھند بننے یا جسم پر رکھے برتن میں حرکت دیکھ کر بھی موت کی تصدیق کی جاتی تھی۔
جسم کو مسخ کرنا
کچھ لوگ یقین دہانی کے لیے لاش کے جسم کو نقصان پہنچاتے تھے جیسے دل نکالنا یا سر کاٹ دینا تاکہ کسی بھی صورت میں زندہ رہنے کا امکان ختم ہو جائے۔
زہریلی ادویات دینا
بعض اوقات بیلاڈونا، سائینائیڈ، مارفین اور سٹرائیکنین جیسی ادویات دی جاتیں تاکہ اگر غلطی سے کوئی زندہ ہو تو وہ یقینی طور پر موت کے قریب پہنچ جائے۔
جسم کے گلنے کا انتظار کرنا
قدیم روم اور وکٹورین دور میں لوگ کئی دن لاش کو دفن کرنے سے پہلے انتظار کرتے تھے تاکہ گلنے سڑنے کے آثار سے موت کی تصدیق ہو سکے۔
قبر سے پیغام دینے کا طریقہ
ایک عجیب طریقہ یہ بھی تھا کہ شیشے پر سلور نائٹریٹ سے پیغام لکھ کر لاش پر رکھا جاتا تھا۔ اگر جسم واقعی مردہ ہوتا تو کیمیائی ردعمل سے پیغام ظاہر ہو جاتا تھا۔
مزید پڑھیں: موت کا وقت بتانے والی قدرتی گھڑیاں: ریڈیوکاربن ڈیٹنگ کی حیران کن دنیا
الغرض یہ تمام طریقے انسانی خوف، لاعلمی اور وقت کے ساتھ طبی ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔ آج کے جدید طبی نظام نے ایسے خوفناک امکانات کو تقریباً ختم کر دیا ہے لیکن یہ طریقے انسانی تاریخ کا ایک حیران کن حصہ ضرور ہیں۔














