پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے فائنل میں پہنچنے والی ٹیم پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ ہر کپتان کی طرح میری بھی خواہش ہے کہ اپنی ٹیم کے لیے ٹرافی جیتوں۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے حیدرآباد کی ٹیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بعد میں ٹیم نے بہتر کھیل پیش کیا اور ہر کھلاڑی نے اپنا کردار بخوبی ادا کیا۔
بابر اعظم نے سری لنکن آل راؤنڈر کوشل مینڈس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور ان کی موجودگی ٹیم کے لیے بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشاور زلمی کے ساتھ ان کا سفر مجموعی طور پر شاندار رہا ہے اور ٹیم نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں بہتری دکھائی ہے۔
بابر اعظم کے مطابق ہر میچ دباؤ کا حامل ہوتا ہے جبکہ فائنل کا دباؤ اس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، جس کے لیے ٹیم کو ذہنی طور پر مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنا ہوتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کرکٹ ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اصل ضرورت اس ٹیلنٹ کی درست پہچان اور مؤثر رہنمائی کی ہے۔
بابر اعظم نے کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کون سا کھلاڑی کس فارمیٹ کے لیے موزوں ہے تاکہ کسی بھی کھلاڑی کو غلط فارمیٹ میں نہ آزمایا جائے۔ ان کے مطابق ٹی20 کے کھلاڑی کو ٹیسٹ کرکٹ میں شامل کرنا ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اپنی کارکردگی سے متعلق سوال پر بابر اعظم نے کہا کہ وہ خود اپنی اور عوام کی توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکے، تاہم ان کی پوری توجہ اپنی فارم بہتر بنانے پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ تنقید کا جواب الفاظ سے نہیں بلکہ میدان میں اپنی کارکردگی سے دینا پسند کرتے ہیں، کیونکہ اچھا کھیلنے کے باوجود بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔














