مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی بچوں نے نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی سے ویڈیو کال کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے اپنی مشکلات اور اسرائیلی مظالم سے آگاہ کیا۔
مزید پڑھیں: غیر ملکی ایجنٹ ہونے کے الزامات، ’ہم نے عبدالستار ایدھی کو نہیں بخشا‘ ملالہ کا شہزاد رائے کو جواب
گفتگو کے دوران بچوں نے بتایا کہ اسرائیلی قابضین نے اسکولوں کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، خار دار تاریں لگا دی گئی ہیں جس کے باعث ان کا اسکول آنا جانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، اور یوں ان کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
اس موقع پر ملالہ یوسف زئی نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال دیکھ کر ان کا دل ٹوٹ گیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری ان بچوں کی آواز سنے گی اور اس بات کا نوٹس لے گی کہ کس طرح غیر قانونی بستیوں میں رہنے والے قابضین اور اسرائیلی فوج بچوں کے بنیادی حقوق کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ملالہ یوسف زئی غزہ کی صورت حال پر خاموش کیوں ہیں؟ شہزاد رائے کے سوال پر وضاحت کردی
گفتگو کے اختتام پر فلسطینی بچوں نے ملالہ یوسف زئی کے لیے عربی زبان میں گیت بھی پیش کیے، جس پر انہوں نے خوشی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔












