امریکی ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان کے ایک گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ سے اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو سرِعام تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ اقدام دہائیوں پر محیط امریکی پالیسی سے انحراف ہوگا، تاہم اس حقیقت کی تصدیق بھی کرے گا جسے 1960 کی دہائی کے اواخر سے انٹیلیجنس حلقوں میں ایک کھلا راز سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے جوہری پروگرام سے متعلق انتہائی حساس دستاویزات ایران کے ہاتھ لگ گئیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 درجن سے زائد ارکانِ کانگریس کےدستخطوں کے ساتھ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور فوجی کشیدگی کے بڑھتے خطرات کے تناظر میں اسرائیل کے جوہری پروگرام پر واشنگٹن کی خاموشی ناقابلِ دفاع ہے۔
ٹیکساس سے رکنِ کانگریس خواکین کاسٹرو کی قیادت میں لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ اس ماحول میں غلط اندازے، کشیدگی میں اضافے اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خطرات محض نظریاتی نہیں ہیں۔
🇮🇱 ☢️ A group of 29 US Democratic lawmakers sent a letter to the Trump administration calling for the United States to publicly acknowledge ‘Israel’s’ nuclear weapons program, according to The Washington Post.
Read more: https://t.co/q7rcji8RYJ pic.twitter.com/8ztO4C9dP5
— Roya News English (@RoyaNewsEnglish) May 5, 2026
’کانگریس کی آئینی ذمہ داری ہے کہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری توازن، اس تنازع میں کسی بھی فریق کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کے خطرات، اور ایسے ممکنہ حالات کے لیے انتظامیہ کی منصوبہ بندی کے بارے میں مکمل آگاہی ہو۔‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بھی کچھ افراد جوہری کشیدگی کے خطرات سے متعلق فکرمند ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی ’ریڈ لائنز‘ پوری طرح سمجھ میں نہیں آ رہیں۔
اسرائیل اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تسلیم نہیں کرتا، جو 1950 کی دہائی کے آخر میں خفیہ طور پر شروع کیا گیا تھا، اور اس نے کبھی یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ایسے ہتھیار کن حالات میں استعمال کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران سے مذاکرات اور میزائل پروگرام: نیتن یاہو اور ٹرمپ کی واشنگٹن میں بدھ کو اہم ملاقات
یہ خط ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے حوالے سے بدلتے ہوئے مؤقف کی تازہ علامت ہے، جہاں غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں شہریوں کی ہلاکتوں اور ایران کے خلاف جنگ کے لیے واشنگٹن میں اسرائیل کی سرگرم لابنگ پر بڑھتی ہوئی تشویش پائی جاتی ہے۔
اسرائیل کے جوہری پروگرام کے معروف مؤرخ ایونر کوہن کے مطابق یہ خط ایک ایسی ممنوعہ حد کو توڑتا ہے جو نصف صدی سے زیادہ عرصے سے برقرار تھی۔
’یہ وہ کام ہے جس کی پہلے کوئی جرات نہیں کرتا تھا۔ محض ان سوالات کو عوامی سطح پر اٹھانا بھی ایک بڑی تبدیلی ہے۔‘

کوہن کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان اس معاملے پر خاموشی کی بنیاد 1969 میں صدر رچرڈ نکسن اور اسرائیلی وزیرِ اعظم گولڈا مئیر کے درمیان ایک غیر رسمی معاہدے سے پڑی۔
مذکورہ معاہدے کے تحت امریکا نے اسرائیل کی ’جوہری ابہام‘ کی پالیسی کو قبول کیا اور اسے بین الاقوامی نگرانی سے بچانے پر رضامندی ظاہر کی۔
خط لکھنے والے ارکان کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی اب امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جوہری پروگرامز کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسرائیل کے پروگرام پر خاموش ہے۔












