معروف دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا ہے کہ پاکستان ایک علاقائی کاؤنٹر فورس کے طور پر ابھر رہا ہے اور ویسٹ ایشیا میں ایک اہم کھلاڑی بن چکا ہے، جبکہ بھارت زمینی حقائق میں پاکستان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر ماریہ سلطان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے خطے میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے مثبت بات یہ ہے کہ امریکی صدر نے کانگریس سے جنگ کے لیے نہ تو اجازت مانگی ہے اور نہ ہی فنڈز کی درخواست کی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ معاملات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق معاملات پیچیدہ نوعیت کے حامل ہیں، جن میں عالمی تیل کی تجارت اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں واپسی جیسے اہم پہلو شامل ہیں۔ تاہم امریکا اور ایران دونوں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ دیگر علاقائی و عالمی طاقتیں بھی امن کی خواہاں ہیں، اس لیے مثبت پیش رفت کی توقع کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی انٹیلی جنس ناکامی کا ممکنہ سبب بھارت ہو سکتا ہے، ڈاکٹر ماریہ سلطان
یورینیوم افزودگی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے 12 سے 15 سال کی مدت پر آمادگی ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے قبل ایران صرف 5 سال کے لیے تیار تھا۔ ان کے مطابق طویل المدتی معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر 19 ہزار سے زائد پابندیاں عائد ہیں، جو مختلف شعبوں بشمول ایوی ایشن، آئل اور مالیاتی نظام پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو ایران عالمی معیشت میں دوبارہ مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، جس سے خطے میں بڑی جیو پولیٹیکل تبدیلی آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران ایک دوسرے کو نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں کے مفادات باہم جڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ مذاکرات کا عمل طویل ہو چکا ہے، تاہم مثبت اشارے موجود ہیں اور پیش رفت جاری ہے۔
ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق عالمی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور امریکا، چین، ایران اور روس کے درمیان تعلقات ایک نئے عالمی سیکیورٹی و معاشی نظام کی تشکیل کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں دہشتگردی جیسے ہتھکنڈے اپنی افادیت کھو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ممکنہ ایران معاہدے سے بڑا معاشی فائدہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی تجارت کا بڑا حصہ اس خطے سے گزرتا ہے اور اگر اس کا کچھ حصہ بھی پاکستان منتقل ہو جائے تو کراچی اور گوادر اہم ٹرانس شپمنٹ حب بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تجارتی راستے کھول رہا ہے اور اب امداد لینے کے بجائے ایک برابر کے شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جو مستقبل میں اس کی معیشت کو مضبوط بنائے گا۔
بھارت کا بیانیہ ناکام، عسکری محاذ پر بھی ناکامی
بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی کوشش تھی کہ وہ خود کو خطے کا نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر ثابت کرے، تاہم پاکستان نے اس بیانیے کو ناکام بنا دیا۔ ان کے مطابق بھارت نہ صرف اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا بلکہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے جنگ کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم یہ بیانیہ بھی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل نہ کر سکا۔ ان کے مطابق 6 مئی پاکستان کے لیے ایک سنہری جبکہ بھارت کے لیے سیاہ دن ثابت ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک امریکا تعلقات میں نیا موڑ آیا ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہیے، ڈاکٹر ماریہ سلطان
ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ بھارتی فضائیہ مؤثر کارروائی نہ کر سکی اور اسے پسپائی اختیار کرنا پڑی، جو عسکری تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے جوابی کارروائی میں بھارتی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کے تحت بعد میں بجلی بحال کی، جبکہ بھارتی دفاعی ردعمل کمزور رہا۔ ان کے مطابق عددی و تکنیکی برتری کے باوجود بھارت اپنے اہداف حاصل نہ کر سکا۔
انہوں نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے نہ صرف عوام بلکہ عالمی برادری کو بھی حقائق سے آگاہ رکھا۔
خطے میں نئے اتحاد اور پاکستان کا کردار
ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق خطے میں نئے اتحاد بن رہے ہیں، جہاں بھارت اور اسرائیل قریب آ رہے ہیں، جبکہ پاکستان سعودی عرب، قطر اور ایران کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک نیٹ سیکیورٹی اسٹیبلائزر کے طور پر ابھر رہا ہے اور مستقبل کے سیکیورٹی و تجارتی کوریڈورز میں اس کا کردار کلیدی ہوگا۔
افغانستان اور دہشتگردی
افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بھارت اور اسرائیل کا کردار ہے، جبکہ افغان حکومت ایک پروکسی کے طور پر کام کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک امریکا تعلقات: 26-2025 میں عملی مفاد پر مبنی شراکت داری کی تشکیل
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی برداشت نہیں کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔












