وینس: سعودی عرب کے منفرد فن پارے کی نمائش، عرب ورثے کی عکاسی

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وینس میں جاری 61ویں بین الاقوامی آرٹ نمائش ’لا بینالے دی وینیزیا‘ میں سعودی عرب نے ایک منفرد فن پارہ پیش کیا ہے، جس میں عرب دنیا کے ثقافتی ورثے، تباہ شدہ تاریخی مقامات اور اجتماعی یادداشت کو موضوع بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے پر زور

سعودی عرب کی جانب سے پیش کیے گئے اس فن پارے کو سعودی آرٹسٹ دانا عورطانی نے تخلیق کیا۔ نمائش کی کیوریٹر انتونیا کارور جبکہ معاون کیوریٹر حفصہ الخضیری ہیں۔

یہ تنصیب سعودی پویلین کے پورے فرش پر مشتمل ہے، جس میں اسلامی جیومیٹری، عرب موزیک آرٹ اور روایتی دستکاری کے عناصر شامل کیے گئے ہیں۔ فن پارے میں عرب دنیا کے 23 تاریخی مقامات کا حوالہ دیا گیا ہے، جو حالیہ برسوں میں جنگ یا تباہی سے متاثر ہوئے۔

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق اس منصوبے پر قریباً 30 ہزار گھنٹے کام کیا گیا، جبکہ ریاض کے قریب ایک ورکشاپ میں 32 کاریگروں نے مختلف رنگوں کی مٹی سے 29 ہزار سے زائد اینٹیں تیار کیں۔ ان اینٹوں کی تیاری میں کسی کیمیائی مواد کا استعمال نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں:وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

دینا امین نے کہا کہ سعودی پویلین عالمی سطح پر سعودی فن اور ثقافت کو متعارف کرانے کا اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ بینالے نمائش 9 مئی سے 22 نومبر تک عوام کے لیے کھلی رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp