بنگلہ دیش: چٹاگانگ کے پہاڑی علاقوں میں غذائی تحفظ کے لیے اقوام متحدہ سے تعاون کی اپیل

جمعرات 14 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے وزیر برائے امورِ چٹاگانگ ہل ٹریکٹس، دیپن دیوان نے اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کے پہاڑی علاقوں میں پائیدار غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور وہاں کے باشندوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنا تعاون مزید مستحکم اور فعال بنائے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے امیدوار نامزد کردیا

 جمعرات کو بنگلہ دیش سیکریٹریٹ میں ڈبلیو ایف پی کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کے دوران وزیر دیپن دیوان نے واضح کیا کہ حکومت اب روایتی امدادی کارروائیوں پر انحصار کم کرتے ہوئے چٹاگانگ کے پہاڑی علاقوں کے نوجوانوں کو تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہے تاکہ انہیں خود کفیل بنایا جا سکے۔

 اس ملاقات میں چٹاگانگ کے تینوں پہاڑی اضلاع میں غذائی امداد اور ترقیاتی منصوبوں میں باہمی تعاون بڑھانے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔

دیپن دیوان نے سرکاری سماجی تحفظ کے پروگراموں میں شفافیت لانے اور ان کے ڈیجیٹل مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے ورلڈ فوڈ پروگرام کی تکنیکی معاونت کو ناگزیر قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اقوامِ متحدہ کے پیس بلڈنگ کمیشن کا وائس چیئر منتخب

 انہوں نے وفد کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائی کہ دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں، جہاں مواصلات اور ٹرانسپورٹ کا نظام تاحال کمزور ہے، وہاں ہنگامی بنیادوں پر غذائی امداد کی تیز رفتار ترسیل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

 اس موقع پر ڈبلیو ایف پی کے وفد نے پہاڑی علاقوں کی ترقی کے لیے بنگلہ دیشی حکومت کے اقدامات کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ غذائی تحفظ اور نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے کے لیے وزارت کے ساتھ ان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔

 ملاقات میں چٹاگانگ ہل ٹریکٹس کے سیکریٹری محمد میزان الرحمن، ڈبلیو ایف پی کی کنٹری ڈائریکٹر سیمون پارچمنٹ اور دیگر سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp