پاکستان کی معروف آٹو موبائل کمپنی لکی موٹرز نے چین کے سرکاری ادارے ’گوانگ زو آٹوموبائل گروپ‘ (جی اے سی) کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کیا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت ملک میں برقی گاڑیوں کی مانگ کو پورا کیا جائے گا۔ کمپنی رواں سال دسمبر تک ان برقی گاڑیوں کی مقامی سطح پر اسمبلنگ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی ڈیلیوری میں تاخیر کیوں، لکی موٹرز نے وجہ بتادی
لکی موٹر کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد فیصل نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ملک میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سولر سسٹم کے رجحان کی وجہ سے برقی گاڑیوں کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران نے پاکستانی صارفین کو روایتی ایندھن کی گاڑیوں سے نئی توانائی والی گاڑیوں کی طرف منتقل ہونے میں مدد دی ہے۔
معاہدے کے تحت لکی موٹرز نے رواں ہفتے پاکستان بھر میں چینی کمپنی کے چار ماڈلز کی نمائش شروع کر دی ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ درآمد شدہ گاڑیوں کا پہلا بڑا سٹاک اگلے دو ماہ کے اندر ہی فروخت ہوجائے گا۔ کراچی پلانٹ میں کیا اور پیوجو کے بعد ’جی اے سی‘ لکی موٹرز کا تیسرا بڑا برانڈ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان چین کی مدد سے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں پیشرفت کا خواہاں
کمپنی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سولر سسٹم کا استعمال برقی گاڑیوں کے حق میں جا رہا ہے۔ شہری خریداروں کے لیے گھروں کی چھتوں پر موجود سولر کی مدد سے رات کے وقت گاڑی کو چارج کرنا اور دن میں استعمال کرنا انتہائی آسان اور سستا ہو جائے گا۔
لکی موٹرز پاکستان میں پہلی بار ’بیٹری سوئیپنگ‘ ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر بھی غور کر رہی ہے جس سے چند منٹوں میں خالی بیٹری کو چارج شدہ بیٹری سے بدلا جا سکے گا۔ اس ٹیکنالوجی کو برقی گاڑیوں کی مقامی اسمبلنگ کے آغاز کے ساتھ ہی مارکیٹ میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2030 تک پاکستان میں 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں، صدر زرداری کا بڑا اعلان
دونوں کمپنیاں پاکستان میں تیار ہونے والی ان گاڑیوں کو دنیا کی دیگر دائیں ہاتھ سے ڈرائیونگ والی مارکیٹوں میں برآمد کرنے کے لیے ابتدائی بات چیت بھی کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، لکی موٹرز حکومت کی نئی پالیسی کے بعد مقامی سطح پر برقی گاڑیوں کی بیٹریاں بنانے کی فزیبلٹی کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔











