شہباز گل ریاست مخالف ایجنڈے میں کہاں تک جا سکتے ہیں؟

جمعہ 22 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اور مختلف پوسٹس کے وائرل ہونے کے بعد ایک نئی سیاسی بحث نے جنم لے لیا ہے، جس میں یہ مؤقف سامنے لایا جا رہا ہے کہ شہباز گل نے ایک خبر کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے اس کے ماخذ اور حقائق کی درست شناخت نہیں کی۔

اس معاملے میں بھارتی میڈیا، برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کے نام کے استعمال اور ایک مبینہ واقعے کی تفصیلات کو لے کر مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد تصدیق سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:شہباز گل کی پاکستان دشمنی ایک بار پھر عیاں، مذاکرات کے حوالے سے غلط بیان شیئر کردیا

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ بھارتی میڈیا نے ایک خبر کو رپورٹ کیا، جبکہ پاکستانی میڈیا میں اس حوالے سے خاموشی رہی۔ اسی پیغام میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہباز گل نے ’گارڈین‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے برطانوی اخبار کے طور پر پیش کیا، حالانکہ یہ مبینہ طور پر بھارتی اشاعت’سنڈے گارڈین‘ کی خبر تھی۔ اس حوالے سے ایک یوٹیوب لنک بھی شیئر کیا جا رہا ہے جس میں یہ بحث اٹھائی گئی ہے۔

دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شہباز گل نے ایک ایسے واقعے پر تبصرہ کیا جس میں حمزہ برہان نامی شخص کے حوالے سے کہا گیا کہ اسے بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان میں آ کر قتل کیا، تاہم سوشل میڈیا پر ہی بعض حلقوں کی جانب سے اس مؤقف کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اصل نام حمزہ احمد ڈار تھا، نہ کہ حمزہ برہان۔

تصویر بشکریہ ڈان نیوز

اسی طرح یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ کیس میں مبینہ قاتل پولیس کی حراست میں ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی ادارے ماضی میں بھی ایسے واقعات میں زیادہ تر مجرموں کی شناخت کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لاتے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں مزید الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ شہباز گل بغیر حقائق کی تصدیق کیے بھارتی بیانیے کو آگے بڑھاتے ہیں، اور ان پر یہ بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ مبینہ طور پر ڈالرز اور ویوز کی خاطر ایسے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں، جس سے ان کے سیاسی مؤقف پر سوالات اٹھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عمادیوسف کے خلاف ٹرائل ختم، شہباز گل کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری دوبارہ جاری

مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھارتی صارفین کے کمنٹس کی موجودگی کو بھی بعض حلقے اپنی دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں، تاہم اس کی بھی کوئی آزاد تصدیق سامنے نہیں آئی۔ پیغام کے آخر میں ایک طنزیہ شعر بھی شامل کیا گیا ہے:

تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے

ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے

اس تمام معاملے پر متعلقہ فریقین کی جانب سے کوئی باضابطہ اور تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ یہ موضوع سوشل میڈیا پر بحث اور تنقید کا مرکز بنا ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp