کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

بدھ 20 مئی 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

   پچھلے دنوں ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی۔ اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں ان کا بڑا گھر ہے، دو تین گاڑیاں ہیں،ایک دو بزنس چل رہے ہیں، بچے بیرون ملک پڑھ رہے ہیں۔ بظاہر سب کچھ ایسا کہ کوئی بھی ان سے رشک کرے، مگر دوست کے چہرے پر ایک ایسی تھکاوٹ تھی جسے دیکھ کر دل بیٹھ سا گیا۔

   میں عام طور پر کسی کے پرسنل معاملات میں دخل نہیں دیتا، جب تک کوئی خود مجھ سے مشورہ نہ مانگے۔ ان کے چہرے پر چپکی تھکن اور آنکھوں میں بجھی بجھی افسردگی دیکھ کر رہا نہ گیا۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگا، ’خاکوانی صاحب، ایک وقت تھا جب ہر کام صرف اس لیے کرتا تھا کہ زندگی میں استحکام آ جائے۔ اب استحکام آ گیا ہے، مگر اب احساس ہو رہا ہے کہ زندگی کہاں چلی گئی۔ صبح آٹھ بجے سے رات گیارہ بجے تک ایک ہی دوڑ ہے۔ کاروباری فون، ٹیکس کے مسائل، لیبر کے مسائل، کسٹمرز کی شکایتیں، بنک کے میسجز۔ پیسہ تو ہے، مگر اس پیسے کے اوپر اپنا اختیار نہیں۔ جس کا میں مالک ہوں، وہی مجھے چلا رہا ہے۔‘

  یہ بات سن کر تکلیف تو ہوئی ، ان کے لیے دل سے دعا بھی نکلی، مگر درحقیقت یہ ہمارا نیا المیہ بن چکا ہے۔ دراصل ہمارے ہاں کامیابی کی تعریف یا اس کا مفہوم غلط بیان کیا جاتا ہے۔ بچپن سے ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ کامیابی پیسے کا نام ہے، بڑی نوکری کا نام ہے، بڑی گاڑی، بڑا گھر، اور سوسائٹی میں بلند مقام۔ یہی پیمانے سکول میں، گھر میں، شادی بیاہ کی محفلوں میں اور بازار میں ہر جگہ چلتے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی پیمانہ ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ آپ کی زندگی پر آپ کا کتنا اختیار ہے؟ آپ کا وقت کس کے پاس ہے؟ آپ کے فیصلے آپ کرتے ہیں یا کوئی اور آپ سے کرواتا ہے؟ امریکی محقق ٹم فیرس نے دوہزار سات میں اپنی کتاب ’فور آور ورک ویک‘شائع کی، جو اب تک دو ملین سے زیادہ فروخت ہوچکی ہے۔ ٹم فیرس نے اس کتاب میں ایک سادہ بات کہی۔ اس کا کہنا ہے،’اصل امیر وہ نہیں جس کے بنک میں زیادہ پیسے ہیں، اصل امیر وہ ہے جس کے کیلنڈر پر زیادہ خالی وقت ہے۔‘ یہ جملہ ہمارے ہاں مذاق میں اڑایا جاتا ہے، مگر اسے سمجھنا کامیابی کا نیا پیمانہ ہے۔

  ایک ذاتی واقعہ یاد آ گیا۔ کوئی بیس بائیس برس پہلے ایک دانشور پروفیسر،  اللہ ان کی بخشش فرمائے، وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے، انہوں نے میری راہنمائی کی تھی۔ کہنے لگے عامر میاں! اپنی زندگی میں چار چیزوں پر اختیار رکھنا، باقی سب ضمنی ہیں۔ پہلا اپنے وقت پر، کہ آپ صبح کب اٹھتے ہیں اور رات کس وقت سوتے ہیں اور دن کے درمیان کے گھنٹے کیسے گزارتے ہیں؟ دوسرا اپنے جذبات پر، کہ کوئی بھی شخص یا حالت آپ کو غصہ، خوف، یا تشویش میں نہ ڈال سکے بغیر آپ کی اجازت کے۔ تیسرا اپنے فیصلوں پر، چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے، یہ آپ کے ہوں۔ کسی دوسرے کے دباؤ، ترغیب یا رعب میں نہ کیے جائیں۔ چوتھا اپنے رشتوں پر، کہ آپ زندگی میں کس کو رکھنا چاہتے ہیں اور کس کو نہیں؟ یہ چاروں چیزیں جس کے ہاتھ میں ہیں، وہ کامیاب ہے، خواہ بنک بیلنس جو بھی ہو۔(ماڑا آدمی ہوں، عام اخبارنویس، اس نصیحت پر مکمل عمل تو نہیں کرسکا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت سمجھ آ گئی ہے۔ )

    یہی بات ایک دوسرے زاویے سے کچھ عرصہ قبل ہی پڑھی۔ ہندوستانی نژاد امریکی سرمایہ کار نوال روی کانت نے ایک طویل انٹرویو میں کامیابی کی نئی تعریف اپنے انداز میں کی۔ ان کا مشہور قول ہے، آزادی تین قسم کی ہوتی ہے۔ پہلی، وقت کی آزادی۔ دوسری، رشتوں کی آزادی، یعنی آپ کس کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اس پر اختیار۔ تیسری، اپنے ذہن کی آزادی، یعنی آپ کس بات سے پریشان ہوں گے اور کس بات سے نہیں، یہ آپ طے کریں۔ چند سال قبل نوال روی کانت کی فکر، سوچ اور ان سے طویل گفتگوئوں پر مبنی کتاب شائع ہوئی ’نوال روی کانت کا المانک ۔‘

   یہ ایک بہت دلچسپ ، زندگی بدل دینے والی کتاب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی نوجوانوں میں اسے بڑی پذیرائی ملی۔ یاد رہے کہ روی کانت ایک کامیاب سرمایہ کار ہے،کروڑ پتی یا شاید ارب پتی۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ پیسہ اس کی کامیابی کی پہچان نہیں۔ پہچان وہ تین آزادیاں ہیں جو پیسے سے نہیں خریدی جا سکتیں، صرف کمائی جا سکتی ہیں۔

   پاکستانی مڈل کلاس میں اب ایک نیا رجحان نظر آ رہا ہے۔ تیس پینتیس برس کی عمر کے نوجوان، جو دس سال محنت کر کے بظاہر کامیاب ہو چکے ہیں، چپکے چپکے یہ سوال کرنے لگے ہیں، یہ سب اس قیمت پر حاصل کرنا تھا؟ اچھی نوکری ہے، تنخواہ بھی معقول ہے، پلاٹ بھی بک کر لیا،لیز پر سہی مگر گاڑی نئی ہے، چھٹیاں بھی باہر گزارنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ زندگی کا اپنا تجربہ کہاں ہے؟ والدین کے ساتھ آخری بار کب چھٹی پر گئے تھے؟ خود سے دو گھنٹے کسی کیفے میں چپ بیٹھ کر آخری بار کب گزارے؟ کوئی نئی زبان سیکھی، کوئی ساز، کوئی فن؟

   ان سب باتوں کے جواب میں وہ خاموشی نظر آتی ہے جسے چھپانا یا نظرانداز کرنا مشکل ہے۔دو ہزار تئیس میں ایک سروے رپورٹ آئی تھی، جس کے  مطابق پاکستان کے بڑے شہروں میں رہنے والے اعلیٰ تنخواہ والے پروفیشنلز کی ایک تہائی سے زیادہ تعداد روزانہ پانچ گھنٹے سے کم سوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک طبقے کی صحت کی نہیں، اس کی روح کی بھی روداد ہیں۔

    پچھلے سال ایک پاکستانی ٹیکنوکریٹ کا پوڈ کاسٹ دیکھا، وہ پچھلے کسی دور میں وزیر بھی رہے، میں نام دانستہ نہیں لے رہا کیونکہ پھر بحث کسی اور طرف چلی جائے گی۔ ایک خوبصورت جملہ انہوں نےبولا کہ زندگی صرف عہدوں کی فہرست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت زیادہ مطمئن تھے جب ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اہم عہدے پر تھے، مگر روزانہ شام کو گھر پہنچ جاتے اور رات کا کھانا بیوی بچوں کے ساتھ کھایا کرتے۔ وزارت میں آنے کے بعد بظاہر تو ایک بڑی کامیابی ملی، مگر اس میں اپنی روح پر اپنا اختیار کھو دیا تھا۔ شاید اسی وجہ سے وہ اب سیاست ہی سے دستبردار ہو کر سائیڈ پر ہوگئے ہیں۔

  دلچسپ یہ ہے کہ مغرب میں اس بحث کو دو دہائی پہلے سمجھ لیا گیا تھا۔وہاں اس پر مختلف بحثیں چلتی رہی ہیں کہ کامیابی کا اصل مفہوم کیا ہے اور حقیقی کامیابی کسے کہیں؟

   ان بحثوں کا نچوڑ یہ ہے کہ آپ صبح اٹھ کر کیا محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ کو اپنا دن گزارنے کا چاؤ ہے یا یہ ایک بوجھ ہے جسے ختم کرنا ہے تاکہ شام آ سکے؟ کیا آپ اپنے بچوں کو دیکھ کر مسکرا سکتے ہیں یا انہیں دیکھتے ہی ذہن کسی کاروباری مسئلے کی طرف چلا جاتا ہے؟

   یہ سوالات بہت بنیادی ہیں مگر ہمارے ہاں ان پر کوئی بات نہیں کرتا۔ پنجابی کا ایک محاورہ ہے، اپنی پگ نوں آپ سنبھال، یعنی اپنی عزت اور اپنا اختیار خود سنبھالو۔ آج کی زبان میں اس کا ترجمہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ اپنے کیلنڈر، اپنی توجہ اور اپنے فیصلے خود کے ہاتھ میں رکھو۔

    ساحر لدھیانوی نے ایک نظم میں لکھا تھا، چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں۔ اس پر بنا فلمی گیت بہت مشہور ہوا۔ یہ نظم اگرچہ محبت کے بارے میں ہے، مگر اس کے بنیادی پیغام کا اطلاق کامیابی پر بھی کر سکتے ہیں، کھینچ تان کر سہی۔ کبھی کبھی ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی اپنے آپ سے اجنبی بنے، اپنے کیرئیر کو دور سے دیکھے، اپنے گھر کو ایک نئی نگاہ سے دیکھے۔ خود سے پوچھے کہ یہ سب میرا اپنا ہے یا کسی اور کے سپنے کا حصہ؟

    یہ سوال تلخ ہے، مگر اس کا جواب دینا ہی پختگی کی ابتدا ہے۔ ہمارے ہاں ایک پوری نسل میچور ہوئے بغیر کامیاب ہو رہی ہے اور پختگی کے بغیر کامیابی ایک بڑا بوجھ بھی بن جاتی ہے۔

   اصل سوال بہرحال یہ ہے کہ ہم نے زندگی کا یہ پیمانہ کب کھویا اور اسے واپس کیسے لیں؟ یہ ایک پرسنل چوائس یا ذاتی فیصلہ ہے۔ کسی ادارے،  کسی کارپوریٹ کے ہاتھ میں نہیں۔

   آپ آج صبح بیٹھ کر طے کر سکتے ہیں کہ مجھے اپنے کیلنڈر میں دو گھنٹے ایسے رکھنے ہیں جو میرے ہیں، میری اپنی روح کے ہیں۔ کوئی بھی پیغام، کوئی بھی فون، کوئی بھی فائل ان میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ یہ چھوٹا سا فیصلہ ہے، مگر اس کا اثر بڑا ہے۔

  کئی سال پہلے ایک نوجوان کاروباری نے بتایا تھا کہ اس نے دن میں ایک گھنٹہ ایسا رکھا جس میں وہ اپنی تین برس کی بیٹی کے ساتھ صرف وہی کام کرتا تھا جو بیٹی چاہتی۔ گڑیاں، رنگ، کہانی، باغ کی سیر، جو بھی۔ پانچ برس میں اس عادت نے اس کے گھر کا ماحول بدل دیا، اس کے دفتر کی پروڈکٹیویٹی کو بہتر کیا، اور سب سے بڑھ کر اس کے اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کیا۔

   مجھے اکثر خیال آتا ہے کہ جو شخص خواہ کتنا ہی کامیاب نظر آ رہا ہو، اس کی کامیابی کو سراہنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ اس کی زندگی میں اس کے اپنے لیے ، خالص اپنے لیے بھی کچھ وقت ہے؟ یا وہ محض نوٹ کمانے کی ایک مشین ہے؟ کہیں وہ بھی کامیابی کی اسی غلط فہمی کا شکار تو نہیں جس نے بے شمار بظاہر کامیاب لوگوں کو اندر سے خالی کر دیا ہے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک کے بالائی علاقوں میں 23 مئی تک بارش، ژالہ باری اور آندھی کا امکان، محکمہ موسمیات کی وارننگ

2022 تا 2024: پی آئی اے کتنے خسارے میں رہی، دیگر ایئر لائنز کتنا منافع کماتی رہیں؟

پاکستان کی سی فوڈ برآمدات میں تاریخی اضافہ، پہلی بار 50 کروڑ ڈالر کا ہدف عبور

مجھے ستارہ امتیاز کسی مخصوص شوٹ پر نہیں مجموعی کام کے اعتراف میں ملا، عرفان احسن کا ’حاسدین‘ کو جواب

خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کے 13 سالہ اقتدار کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

ویڈیو

مجھے ستارہ امتیاز کسی مخصوص شوٹ پر نہیں مجموعی کام کے اعتراف میں ملا، عرفان احسن کا ’حاسدین‘ کو جواب

خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کے 13 سالہ اقتدار کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا

قدم قدم سوئے حرم