چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں خزاں اپنے اسمارٹ فونز کے لیے نئی نسل کے کِرن چِپس متعارف کرائے گی جس سے عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں اینویڈیا اور ایپل کے ساتھ اس کی مسابقت مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہواوے کا نیا فولڈیبل فون بڑی اسکرین اور طاقتور فیچرز کے ساتھ متعارف
سی این بی سی کے مطابق شنگھائی میں پیر کو ایک تقریب کے دوران کمپنی نے بتایا کہ اس نے لاجک فولڈنگ نامی ایک نئی انجینیئرنگ تکنیک تیار کی ہے جس کے ذریعے جدید سیمی کنڈکٹرز تیار کیے جائیں گے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی برآمدی پابندیوں کے باعث اینویڈیا کو چین میں اپنے جدید ترین چِپس فروخت کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ایپل کو بھی چینی مارکیٹ میں ہواوے کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے سخت مقابلہ درپیش ہے۔
ہواوے نے سنہ 2023 میں اپنے میٹ 60 اسمارٹ فون میں جدید 5G چِپ متعارف کروا کر ایپل سے مارکیٹ شیئر دوبارہ حاصل کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کا نئی اے آئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا اعلان

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی نئی چِپ ٹیکنالوجی سنہ 2031 تک 1.4 نینو میٹر کے مساوی کارکردگی فراہم کر سکتی ہے جبکہ دنیا کی بڑی چِپ ساز کمپنی ٹی سی ایم سی اس وقت 2 نینو میٹر چِپس کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر چکی ہے۔
تاہم کئی ماہرین نے ہواوے کے اس دعوے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق تہہ دار یا فولڈڈ ڈیزائن سے کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے لیکن بڑے پیمانے پر پیداوار، حرارت کے اخراج اور توانائی کے مسائل اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔
امریکی پابندیوں کے باعث جدید لیتھوگرافی مشینوں تک رسائی محدود ہونے کے بعد ہواوے متبادل راستوں سے سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں پیشرفت کی کوشش کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: وزارت تعلیم چینی ٹیک کمپنی ہواوے کے اشتراک سے پاکستانی طلبا کو آئی ٹی ٹریننگ فراہم کرے گی
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ہواوے اپنی نئی چِپ ٹیکنالوجی کو کامیابی سے تجارتی سطح پر نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ چین کی ٹیکنالوجی خودمختاری کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔














