محبت واقعی سرحدوں، فاصلے اور پابندیوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ جب دل کسی کے لیے دھڑکنے لگے تو راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ چھوٹی محسوس ہونے لگتی ہے۔
آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کے گاؤں رینکڑی سے تعلق رکھنے والے نوجوان ذیشان میر نے بھی شاید یہی سوچ کر ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے ہر کسی کو حیران کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: محبت کی خاطر لائن آف کنٹرول عبور کرنے والی 22 سالہ لڑکی آزاد کشمیر میں گرفتار
مقبوضہ کشمیر کی رہائشی ارم بانو سے ملاقات کی خواہش اسے لائن آف کنٹرول کی خطرناک اور حساس سرحد تک لے گئی۔
محبت سے مغلوب اس نوجوان نے نہ صرف خطرات کو نظر انداز کیا بلکہ ایل او سی عبور کرکے مقبوضہ کشمیر کے اُڑی سیکٹر تک جا پہنچا۔
They say love has no borders. Zeeshan Mir, a Pakistani, crossed the LoC in Uri to meet his Indian girlfriend Irum Bano and was caught by 12 Grenadiers. If his intentions were pure, the Indian Army should show compassion and let him go. pic.twitter.com/Ux8bIZ9r7O
— Behram Khan (@behram_91khan) May 31, 2026
کشمیر کی تقسیم نے برسوں سے خاندانوں، دوستوں اور رشتوں کو دو حصوں میں بانٹ رکھا ہے، دونوں جانب کے لوگ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں، یاد کر سکتے ہیں، مگر آسانی سے مل نہیں سکتے۔
ایسے میں ذیشان میر کی یہ داستان صرف دو نوجوانوں کی محبت کی کہانی نہیں بلکہ اس درد کی عکاس بھی ہے جو سرحدوں کے مابین بٹے ہوئے لوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے۔
مزید پڑھیں: غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرنیوالے 2 نوجوان بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید
ذیشان اپنے محبوب تک تو پہنچ گیا، مگر اس ملاقات کی قیمت دونوں کو حراست کی صورت میں چکانا پڑی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ محبت انسان کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جن کا تصور عام حالات میں مشکل ہوتا ہے۔













