انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے قذافی اسٹیڈیم لاہور اور لارڈز کرکٹ گراؤنڈ لندن کی پچز کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دونوں وینیوز کو ایک، ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیدیا ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق لارڈز میں کھیلے گئے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ اور قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل کی پچز پر میچ ریفریز نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
لارڈز ٹیسٹ کے میچ ریفری اینڈی پائکرافٹ نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی کہ پچ پر غیر معمولی سیم موومنٹ اور غیر متوقع باؤنس دیکھنے میں آیا، جس کے باعث بیٹ اور بال کے درمیان مطلوبہ توازن برقرار نہ رہ سکا۔
دوسری جانب پاکستان اور آسٹریلیا کے ون ڈے میچ کے ریفری گریم لا بروئے نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ قذافی اسٹیڈیم کی وکٹ سست رفتار اور کم باؤنس کی حامل تھی۔
ان کے مطابق یہ پچ ون ڈے کرکٹ کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتر سکی اور میچ کے آغاز ہی سے اسپنرز کو غیر معمولی مدد ملتی رہی۔
آئی سی سی نے دونوں معاملات کی رپورٹس انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ارسال کر دی ہیں، جبکہ دونوں بورڈز کو فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 14 روز کی مہلت بھی دی گئی ہے۔
آئی سی سی ریکارڈ کے مطابق اس سے قبل نہ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ اور نہ ہی قذافی اسٹیڈیم کے خلاف کوئی ڈی میرٹ پوائنٹ موجود تھا۔
آئی سی سی قوانین کے تحت غیر تسلی بخش قرار دی جانے والی پچ پر ایک ڈی میرٹ پوائنٹ جبکہ ناقابلِ کھیل پچ پر 3 ڈی میرٹ پوائنٹس عائد کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی وینیو کے خلاف 6 ڈی میرٹ پوائنٹس جمع ہو جائیں تو اسے ایک سال کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی سے محروم کیا جا سکتا ہے، جبکہ 12 ڈی میرٹ پوائنٹس کی صورت میں 2 برس کی پابندی عائد ہو سکتی ہے۔














