اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 5 جون 2026 تک بڑھ کر 22.67 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جب کہ صرف ایک ہفتے کے دوران ذخائر میں 3.57 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
Total liquid foreign #reserves held by the country stood at US$22.67 billion as of June 05, 2026.
For details: https://t.co/WpSgomnKT3
#sbpreserves pic.twitter.com/M01b1JJgQE— SBP (@StateBank_Pak) June 11, 2026
مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 5 جون کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 2.48 کروڑ ڈالر اضافے کے بعد 17.21 ارب ڈالر ہوگئے، جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر بھی 1.09 کروڑ ڈالر بڑھ کر 5.45 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ سے عالمی معیشت کو کورونا کے بعد بدترین سست روی کا سامنا ہوگا، ورلڈ بینک
دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنا ریسرچ ایجنڈا 2026-29 بھی جاری کر دیا ہے، جس میں ادارے کی آئندہ تحقیقی ترجیحات کو 3 بڑے شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
#SBP Research Agenda 2026-29 launched today, reflects the bank’s research priorities and is organised around three strategic themes:
Inflation Dynamics and Monetary Policy
Financial Sector Deepening, Soundness and Efficiency
Structural Transformation and Economic Development
Read… pic.twitter.com/F4aJljQqVt— SBP (@StateBank_Pak) June 11, 2026
ریسرچ ایجنڈے کے مطابق توجہ جن اہم شعبوں پر مرکوز ہوگی ان میں افراطِ زر کی حرکیات اور مالیاتی پالیسی، مالیاتی شعبے کی بہتری اور استحکام، اور ساختی معاشی تبدیلی و ترقی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ اضافہ اور ریسرچ ایجنڈے کا اجرا معاشی نظم و نسق اور پالیسی تسلسل کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔














