کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

پیر 15 جون 2026
author image

انعم ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی بجٹ 2026-27 کو حکومت نے معاشی استحکام، ترقی اور عوامی فلاح کا بجٹ قرار دیا ہے، لیکن اگر اس کا جائزہ ایک مزدور، دیہاڑی دار، چھوٹے کسان، ریڑھی بان، پنشنر، بیوہ، یتیم، تنخواہ دار ملازم اور نچلے متوسط طبقے کے نقطۂ نظر سے لیا جائے تو تصویر اتنی روشن نظر نہیں آتی جتنی بجٹ تقریر میں پیش کی گئی۔

اصل سوال یہ نہیں کہ مالی خسارہ کم ہوا یا پرائمری سرپلس حاصل ہوا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس بجٹ کے بعد ایک عام پاکستانی کی زندگی آسان ہوگی؟ کیا اس کے گھر کا چولہا کم خرچ پر جل سکے گا؟ کیا اس کے بچوں کو بہتر تعلیم اور علاج میسر ہوگا؟ اور کیا اسے باعزت روزگار مل سکے گا؟

حکومت معاشی استحکام کو اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے، مگر عوام کے لیے معیشت کی اصل پیمائش آٹے، دال، چینی، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں ہیں۔ بجٹ کے فوراً بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان چونکہ اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا اثر صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ خوراک، زرعی پیداوار، صنعت اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔

اس صورت حال میں حکومت کا 7.5 فیصد مہنگائی کا ہدف زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہوا نظر نہیں آتا۔ خدشہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی دوبارہ عوام کی قوتِ خرید کو متاثر کر سکتی ہے۔

اس بجٹ کا ایک اہم اور تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ ٹیکس کے بوجھ کی تقسیم اب بھی غیر متوازن دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی زیادہ تر ٹیکس بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں وصول کیے جاتے ہیں، جن کا بوجھ امیر اور غریب دونوں پر یکساں پڑتا ہے۔

ایک ارب پتی اور ایک مزدور جب پٹرول خریدتے ہیں تو دونوں ایک ہی شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ نتیجتاً ٹیکس کا حقیقی بوجھ غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ایسے شعبے اور طبقات جو بڑی آمدنی رکھتے ہیں اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کر سکتے ہیں، ان کے لیے مختلف رعایتیں، چھوٹیں اور استثنیٰ موجود ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقہ، چھوٹا تاجر اور عام صارف بدستور ٹیکس نیٹ کا سب سے آسان شکار بنے ہوئے ہیں۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ملک کے بڑے جاگیرداروں، بااثر سرمایہ کاروں، غیر دستاویزی معیشت کے بڑے کھلاڑیوں اور بعض مراعات یافتہ شعبوں سے ان کی حقیقی آمدنی کے مطابق ٹیکس کیوں نہیں لیا جاتا؟

اگر ٹیکس وصولی کا نظام منصفانہ بنایا جائے تو حکومت کو بالواسطہ ٹیکسوں اور عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کی ضرورت کم پڑ سکتی ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ بجٹ میں بھی ایسا کوئی انقلابی قدم نظر نہیں آتا جو ٹیکس نظام کو زیادہ مساوی اور منصفانہ بنا سکے۔

روزگار کے حوالے سے حکومت نے نوجوانوں کے لیے قرضوں اور ہنر مندی کے پروگراموں کا اعلان کیا ہے، جو یقیناً قابلِ ستائش ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ معیشت اتنی تیزی سے نوکریاں پیدا نہیں کر رہی۔

جب تک صنعتی پیداوار، برآمدات، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور زراعت میں غیر معمولی ترقی نہیں ہوتی، تب تک بے روزگاری کا مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔ قرضے اور تربیتی پروگرام اہم ہیں، لیکن وہ مستقل روزگار کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے۔

تعلیم کے شعبے کو اگر قومی ترقی کی بنیاد سمجھا جائے تو یہ بجٹ اس شعبے کے لیے بھی بڑی امید پیدا نہیں کرتا۔ پاکستان پہلے ہی تعلیم پر دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں کم خرچ کرتا ہے۔

لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں، سرکاری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور اعلیٰ تعلیم غریب طبقے کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اگر تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ نہ کیا گیا تو پاکستان کی نوجوان آبادی ایک قومی اثاثے کے بجائے ایک معاشی بوجھ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

صحت کے شعبے کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ آج بھی ملک کے ہزاروں خاندان صرف اس لیے اپنے پیاروں کو کھو دیتے ہیں کہ ان کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔

سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی کمی، جدید مشینری کا فقدان، ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی اور دیہی علاقوں میں بنیادی صحت مراکز کی ناقص صورتحال ایک تلخ حقیقت ہے۔

اس بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے مختص وسائل ان مسائل کے حجم کے مقابلے میں ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ دعویٰ کرنا مشکل ہے کہ اب کوئی غریب شخص صرف علاج نہ ملنے کی وجہ سے جان نہیں گنوائے گا۔

اگر مجموعی تصویر دیکھی جائے تو یہ بجٹ غریب آدمی کی جیب میں فوری طور پر زیادہ پیسہ ڈالنے کے بجائے معیشت کے بڑے اشاریوں کو بہتر بنانے پر مرکوز دکھائی دیتا ہے۔ معاشی استحکام یقیناً ضروری ہے، لیکن استحکام کا اصل مقصد عوام کی زندگی بہتر بنانا ہونا چاہیے۔

جب تک روٹی، تعلیم، علاج، روزگار اور رہائش جیسے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، اس وقت تک معاشی ترقی کے اعداد و شمار عام آدمی کے لیے محض کاغذی کامیابیاں ہی رہیں گے۔

لہٰذا یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بجٹ 2026-27 ایک “معاشی استحکام کا بجٹ” تو ہو سکتا ہے، مگر اسے مکمل طور پر “عوام دوست بجٹ” قرار دینا مشکل ہے۔

اس بجٹ میں مراعات یافتہ طبقوں کے لیے گنجائش اور رعایتیں موجود ہیں، جبکہ عام آدمی بدستور مہنگائی، بالواسطہ ٹیکسوں، بڑھتے ہوئے یوٹیلیٹی بلوں اور محدود آمدنی کے بوجھ تلے دبا ہوا نظر آتا ہے۔

عام پاکستانی کی نظر میں اس بجٹ کا خلاصہ شاید صرف اتنا ہے: “جن کے پاس دینے کی استطاعت زیادہ ہے، ان پر بوجھ کم ہے، اور جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، ان کے کندھوں پر ریاست کا زیادہ وزن ڈال دیا گیا ہے۔”

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موسمیاتی تبدیلی کا سنگین خطرہ: دنیا کے قریباً تمام بچے ماحولیاتی آفات کی زد میں، یونیسف

نواز شریف نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ن لیگ کا اہم اجلاس طلب کر لیا

آزاد کشمیر میں گڈز ٹرانسپورٹ سروس معطل، اشیائے ضروریہ کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا

پاکستان مزید عالمی بانڈز جاری کرنے کی تیاری میں، ایران معاہدے سے معیشت کو بہتری کی امید، وزیر خزانہ

کیا بشریٰ انصاری نے خوبصورتی کے لیے لپ فلرز کروائے؟ اصل حقیقت سامنے آگئی

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

امن معاہدہ اور پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ