متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان میں اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ پارٹی چیئرمین خالد مقبول صدیقی اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے درمیان جاری کشیدگی اب کھلی بیان بازی میں تبدیل ہوچکی ہے، جس کے باعث نہ صرف مرکزی قیادت دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے بلکہ کارکنان میں بھی بے چینی اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کا نام لیے بغیر سخت تنقید کی ہے جبکہ پارٹی کے اندر چیئرمین شپ، انٹرا پارٹی انتخابات اور تنظیمی امور پر اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔
اہم فیصلے چند افراد تک محدود ہو چکے ہیں، مصطفیٰ کمال
اتوار کو کراچی کے بہادر آباد پارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے پارٹی قیادت پر شدید تنقید کی۔
مزید پڑھیں: کامران ٹیسوری کو کیوں ہٹایا؟ وزیراعظم سے ملاقات میں ایم کیو ایم کا سوال
انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم پاکستان میں ایک سال سے کوئی باقاعدہ اجلاس نہیں ہوا جبکہ اہم فیصلے چند افراد تک محدود ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے بجائے الیکشن کمیشن میں پارٹی چیئرمین شپ کی مدت میں توسیع کے لیے درخواست دی جا رہی ہے، جو کارکنان اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ اگر کسی کو چیئرمین بننے کا شوق ہے تو ہم سے کہیں، ایک رات میں چیئرمین بنوا دیں گے، لیکن ایکسٹینشن لینے والا لیڈر قوم کے حقوق کی جنگ نہیں لڑ سکتا۔ جن سے حقوق لینے ہیں انہی کے سامنے جا کر مدت میں توسیع مانگنا کمزوری کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندر مشاورت کا نظام قریباً ختم ہو چکا ہے۔
گلگت بلتستان انتخابات کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بھی کوئی باضابطہ اجلاس نہیں ہوا۔ ان کے بقول پارٹی معاملات چند افراد کے ہاتھ میں چلے گئے ہیں جبکہ کارکنان اور سینیئر رہنماؤں کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ ہم نے الطاف حسین کو کسی ذاتی مفاد یا وزارت کے لیے نہیں چھوڑا تھا بلکہ ایک بڑے مقصد کے لیے علیحدگی اختیار کی تھی، اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ پارٹی کی قیادت کا طرز عمل ایسا ہوگا تو شاید ہم کبھی اس سفر کا حصہ نہ بنتے۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ سیاسی حیثیت اور 2024 کے انتخابات میں حاصل ہونے والی کامیابیوں میں ان سمیت کئی رہنماؤں کی محنت شامل ہے، تاہم فیصلوں میں انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران مصطفیٰ کمال نے پارٹی کے بعض دیگر معاملات پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے ایک گرفتار منشیات فروش کے ایک رکن قومی اسمبلی سے مبینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پارٹی قیادت کو اس معاملے پر وضاحت دینی چاہیے تھی، تاہم تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے حوالے سے بھی کہا کہ پارٹی کے اندر کبھی باقاعدہ طور پر یہ طے نہیں کیا گیا کہ ان کے بارے میں پالیسی کیا ہوگی۔
اپنا قد ایم کیو ایم سے چھوٹا رکھو، خالد مقبول صدیقی کا ردعمل
دوسری جانب ہفتہ کی شب حیدرآباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے بھی سخت ردعمل دیا۔
اگرچہ انہوں نے مصطفیٰ کمال کا نام نہیں لیا تاہم ان کے خطاب کو واضح طور پر حالیہ تنقید کا جواب قرار دیا جا رہا ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم جبر سے نہیں ڈرے تو اس کے غلاموں سے کیا ڈریں گے۔ ہم استعمال نہیں ہو رہے بلکہ تم استعمال ہو رہے ہو، اوقات میں رہو اور اپنا قد ایم کیو ایم سے چھوٹا رکھو۔
انہوں نے مزید کہاکہ چیئرمین کو غیر قانونی قرار دینے والے خود تنظیمی طور پر غیر قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے بقول جو شخص تنظیم چھوڑ دیتا ہے اس کی رکنیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ تنظیمی معاملات پر سوال اٹھانے کا اخلاقی جواز کھو دیتا ہے۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور جو لوگ ذاتی خواہشات یا عہدوں کی بنیاد پر سیاست کررہے ہیں وہ تنظیم کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پارٹی میں موجود بدعتوں کو ختم کرنا ہوگا، جس کے دل میں ذمہ داری کے بجائے عہدے کا شوق پیدا ہو جائے وہ پارٹی کے لیے فائدہ مند نہیں رہتا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان جاری لفظی جنگ نے پارٹی کارکنان کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پر خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی تقاریر اور بیانات مسلسل زیر بحث ہیں جبکہ کارکنان کی ایک بڑی تعداد اس صورتحال کو ایم کیو ایم پاکستان کے لیے نقصان دہ قرار دے رہی ہے۔
اختلافات کی بنیادی وجہ چیئرمین شپ اور انٹرا پارٹی انتخابات ہیں، ارشد وہرہ
ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر رہنما ارشد وہرہ نے اختلافات کی بنیادی وجہ چیئرمین شپ اور انٹرا پارٹی انتخابات کو قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی دونوں خود کو بہتر قائد سمجھتے ہیں تو اس کا حل صرف اور صرف شفاف انٹرا پارٹی انتخابات ہیں۔
ارشد وہرہ کے مطابق 2016 کے بعد ایم کیو ایم مختلف حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی اور تنظیم کو مستحکم کرنے کے لیے بروقت انتخابات ضروری تھے۔ انتخابات میں تاخیر سے اختلافات بڑھتے گئے اور اب وہ کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے مصطفیٰ کمال کے اس دعوے سے بھی اختلاف کیاکہ 2024 کے انتخابات میں کامیابی صرف ان کی وجہ سے حاصل ہوئی۔ ارشد وہرہ کا کہنا تھا کہ مختلف حلقوں میں کامیابی مقامی رہنماؤں اور کارکنان کی اپنی محنت کا نتیجہ تھی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف پارٹی سندھ کے شہری علاقوں کی بڑی سیاسی قوت ہے جبکہ دوسری جانب قیادت کے درمیان بڑھتے اختلافات تنظیمی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جلد انٹرا پارٹی انتخابات اور تنظیمی معاملات پر اتفاق رائے پیدا نہ کیا گیا تو اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
فی الوقت ایم کیو ایم پاکستان کی مرکزی قیادت اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کررہا ہے کہ آیا یہ تنازع صرف چیئرمین شپ تک محدود رہے گا یا مستقبل میں پارٹی کے اندر کسی بڑی سیاسی صف بندی کا سبب بنے گا۔
ایم کیو ایم میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں، فہیم صدیقی
سینیئر تجزیہ کار فہیم صدیقی نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ ان کے مطابق مصطفیٰ کمال ماضی میں بھی پارٹی کے بانی رہنما کے خلاف کھل کر گفتگو کرتے رہے ہیں اور اب وہ خالد مقبول صدیقی پر تنقید کررہے ہیں۔
فہیم صدیقی نے کہاکہ اکتوبر میں ایم کیو ایم کے انٹرا پارٹی انتخابات ہونے جا رہے ہیں، ایسے میں مصطفیٰ کمال اپنی سیاسی پوزیشن کو مضبوط بنانے اور پارٹی کے اندر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔
پارٹی کی اصل قیادت کسی اور کے ہاتھ میں؟
انہوں نے کہاکہ اس تمام صورتحال میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ پارٹی کی اصل قیادت کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے بقول، پارٹی میں ہر اہم شخصیت، چاہے وہ خالد مقبول صدیقی ہوں یا مصطفیٰ کمال، اس قیادت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: 28ویں آئینی ترمیم ایم کیو ایم پاکستان کے لیے سیاسی بقا کا معاملہ کیوں؟
فہیم صدیقی نے مزید کہا کہ مصطفیٰ کمال کا یہ بیان کہ وہ چاہیں تو ایک رات میں کسی کو بھی پارٹی کا چیئرمین بنا سکتے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے پارٹی کے بڑے حلقوں اور بااثر شخصیات سے رابطے موجود ہیں۔












