پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے عوام کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ انتقال کر جانے والے افراد کے نام پر رجسٹرڈ سم کارڈز کو فوری طور پر بند کروایا جائے یا پھر انہیں قانونی ورثاء کے نام منتقل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرنیٹ ٹریفک کی لوکلائزیشن لازمی، پی ٹی اے کا نیا فریم ورک نافذ
ترجمان پی ٹی اے کے مطابق یہ کارروائی ‘چینج آف اونرشپ’ (سی او او) کے طے شدہ طریقہ کار کے تحت مکمل کی جا سکتی ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ سم کارڈز صرف مرحوم کے قریبی خونی رشتہ داروں یا شریکِ حیات (بیوی یا شوہر) کے نام پر ہی منتقل کیے جانے کے اہل ہوں گے۔
وفات شدہ افراد کے نام پر رجسٹرڈ سمز کی بروقت منتقلی یا بلاکنگ یقینی بنائیں تاکہ غیر قانونی استعمال سے بچاؤ اور قانونی تحفظ برقرار رہے۔
#PTA #SIMTransfer #COO #DigitalSafety #ConsumerProtection #Pakistan #Telecom #CyberSafety #LegalHeirs #SIMSecurity pic.twitter.com/tujU0kpfCN
— PTA (@PTAofficialpk) June 16, 2026
اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے اہل فیملی ممبرز متعلقہ موبائل آپریٹر کے قریبی کسٹمر سروس سینٹر یا کسی بھی مجاز فرینچائز کا دورہ کرسکتے ہیں۔ پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق منتقلی کے وقت 4 اہم دستاویزات فراہم کرنا لازمی ہوں گی جن میں نادرا کا فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ایف آر سی)، مرحوم کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ، اصل سم کارڈ اور سم کے استعمال کا ثبوت شامل ہے۔
ان مطلوبہ دستاویزات کی تصدیق کے بعد ہی سم کی ملکیت تبدیل کرنے کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے جعلی کالز و ایس ایم ایس کے حوالے سے شہریوں کو خبردار کردیا
حکام کا کہنا ہے کہ وقت پر سم کارڈز کی منتقلی یا انہیں بلاک کروانا قانون کے مطابق سروسز کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد وفات پا جانے والے افراد کے نام پر موجود سمز کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنا اور ڈیجیٹل رابطوں کو محفوظ بنانا ہے۔
اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے شہری پی ٹی اے کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا پی ٹی اے کے ڈیجیٹل اسسٹنٹ واٹس ایپ نمبر 03150055055 پر بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔














