کینیا کے شہر مومباسا میں منعقدہ ‘اور اوشن کانفرنس’ کے دوران پیش کی جانے والی ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق، دنیا بھر کے مرجانی چٹانوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ، جو کہ 166,000 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف غیر معمولی مزاحمت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینٹ مارٹن جزیرہ کا ماحولیاتی تحفظ، بنگلہ دیش کا سیاحت محدود کرنے کا فیصلہ
وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی اور آسٹریلیا کی میکوری یونیورسٹی کے ماہرین کی یہ مشترکہ تحقیق ماحولیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے کے ان مایوس کن اندازوں کو چیلنج کرتی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ درجہ حرارت میں 1.5 سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی صورت میں 70 سے 99 فیصد مرجانی چٹانیں ختم ہوسکتی ہیں۔

وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کی میرین کنزرویشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اسٹیسی جوپیٹر کا کہنا ہے کہ نئے کمپیوٹر ماڈلز مرجانی چٹانوں کے مستقبل کے لیے کہیں زیادہ پُرامید نتائج دکھا رہے ہیں، تاہم اس وقت ان مزاحمتی چٹانوں میں سے صرف 28 فیصد کو ہی باقاعدہ تحفظ حاصل ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق، کینیا کے ساحلی جزیرے ‘واسینی مکبیرو’ کے دیہاتیوں نے مرجانی چٹانوں کو بچانے کے لیے دنیا کے سامنے ایک بہترین مثال قائم کی ہے۔ مقامی ماہی گیر ساحل سے جو مچھلیاں پکڑ کر لاتے ہیں، ان کا باقاعدہ وزن اور ریکارڈ رکھا جاتا ہے، جبکہ کمیونٹی کے دیگر ارکان سمندر میں گشت کر کے حد سے زیادہ ماہی گیری اور نقصان دہ آلات کے استعمال کو روکتے ہیں۔
ان مقامی کوششوں کی بدولت اس علاقے کو 2021 میں امریکہ کے میرین کنزرویشن انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ‘گولڈ لیول بلیو پارک ایوارڈ’ سے بھی نوازا گیا۔

عام طور پر سمندری درجہ حرارت میں معمولی اضافے سے مرجانی چٹانیں سفیدی مائل ہو کر مرنے لگتی ہیں، لیکن نئی ریسرچ بتاتی ہے کہ کینیا اور دنیا کے دیگر حصوں میں موجود چٹانیں یا تو ٹھنڈے مقامات پر واقع ہیں یا پھر وہ گرمی کو برداشت کرنے اور تیزی سے بحالی کی صلاحیت حاصل کر چکی ہیں، جیسا 2024 کی شدید گرمی کے بعد کینیا کے اس زون میں کورل کور 44 سے گر کر 27 فیصد رہ گیا تھا، لیکن صرف ایک سال کے اندر یہ دوبارہ 40 فیصد پر آگیا۔
بلومبرگ اوشن انیشی ایٹو کے تعاون سے کی جانے والی اس جدید تحقیق میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی مدد سے تیار کردہ نقشہ ماضی کے مقابلے میں 10,000 گنا زیادہ تفصیلی ہے اور اس نے سابقہ معلومات کے مقابلے میں تین گنا زیادہ مزاحمتی کورل چٹانوں کی نشاندہی کی ہے۔
ان میں سے آدھے سے زیادہ چٹانیں آسٹریلیا، بہاماس، کیوبا، انڈونیشیا اور فلپائن کے سمندروں میں مرکوز ہیں۔ تحقیق کے مرکزی مصنف کائل زواڈا کا کہنا ہے کہ یہ چٹانیں مستقبل میں پورے سمندری نظام کی بحالی کے لیے ‘زندہ بیج بینکوں’ کا کام کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی ایل نینو کی وسط 2026 میں فعال ہونے کا امکان، اقوامِ متحدہ کا انتباہ
اگرچہ رواں سال موسم کی تبدیلی کے اثرات اور ال نینو کی آمد سے سمندری حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں، تاہم سمندری محقق جیسی کوسگی کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا مقامی آبادیوں کے بس میں نہیں، مگر سمندری آلودگی اور تباہ کن ماہی گیری کو روک کر ان پُرامید مقامات کو فوری طور پر بچایا جا سکتا ہے۔














