پیپلز پارٹی کا الیکشن ملتوی کرنے کا مطالبہ، ن لیگ کا سخت ردعمل، کیا انتخابات بروقت ہو پائیں گے؟

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد پر سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایک جانب پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے موجودہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن شیڈول واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے، تو دوسری جانب مسلم لیگ (ن)، الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت اور متعدد تجزیہ کار اس مطالبے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے بروقت انتخابات پر زور دے رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے متضاد مؤقف، ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور ریاستی اداروں کے بیانات کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا آزاد کشمیر میں انتخابی عمل اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہو سکے گا یا انتخابی ماحول مزید سیاسی کشیدگی کا شکار ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں دھرنا ختم کروانے کے لیے ریاست کو جلدی نہیں، عوام خود ان کا فیصلہ کریں گے، سیکیورٹی حکام

الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر نے 27 جولائی کو ریاست میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کر رکھا ہے، تاہم دوسری جانب پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت نے الیکشن شیڈول واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس کے باعث یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ریاست میں عام انتخابات بروقت ہو پائیں گے یا نہیں۔ وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابات بروقت کرائے جائیں گے۔ رانا ثنااللہ اور طارق فضل چوہدری اس حوالے سے اپنا مؤقف واضح کر چکے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت نے کچھ روز قبل اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ریاست کی موجودہ صورتِ حال کے باعث الیکشن شیڈول واپس لیا جائے۔

پیپلز پارٹی کے اس مطالبے پر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں کسی صورت انتخابات ملتوی نہیں ہو سکتے، جبکہ الیکشن شیڈول واپس لینے کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔

الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر نے بھی پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ الیکشن شیڈول جلد بازی میں جاری کیا گیا، اور کمیشن بروقت انتخابات کرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے آزاد کشمیر میں انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، جس کی ریاست متحمل نہیں ہو سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر: کالعدم ایکشن کمیٹی کے 400 سے زیادہ افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کا فیصلہ

تجزیہ کاروں کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی ریاست میں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی نے الیکشن شیڈول واپس لینے کا مطالبہ کر کے ان کے مؤقف کی حمایت کی ہے، جو غیر آئینی قرار دیا جا رہا ہے۔

کالعدم ایکشن کمیٹی مہاجرین کی نشستیں ختم کرانے کی خواہاں

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو جواز بنا کر الیکشن شیڈول واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن مظفرآباد اور میرپور ڈویژن میں ایکشن کمیٹی کی کال پر کہیں کوئی احتجاج نہیں ہو رہا۔ صرف راولاکوٹ میں کچھ لوگ احتجاج کر رہے ہیں، تاہم صورتحال سیکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرینِ مقیم پاکستان کی 12 نشستیں ختم کی جائیں، لیکن دوسری جانب ریاست کا مؤقف ہے کہ کسی بھی صورت مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والوں کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

بیرونی اشارے پر امن تباہ کرنے والوں کا فیصلہ عوام خود کریں گے، سیکیورٹی حکام

گزشتہ روز سیکیورٹی ذرائع نے بھی اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر لب کشائی کی۔

سینیئر سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کو آزاد کشمیر میں احتجاجی دھرنے ختم کروانے کے لیے کوئی جلدی نہیں ہے، بیرونی اشارے پر امن تباہ کرنے والوں کا فیصلہ عوام خود کریں گے۔

سیکیورٹی حکام نے کہا کہ پاکستانی ریاست کا ہمیشہ پہلا آپشن مذاکرات ہوتا ہے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ بھی ہر سطح پر بات چیت کی گئی، لیکن انہوں نے سڑکوں پر آنے اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا راستہ اختیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اب بھی صبر، تحمل، پیار اور محبت کا مظاہرہ کر رہی ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ ایسے گروہوں سے نمٹنے کا تجربہ موجود ہے اور اس سے قبل بھی اس نوعیت کے کئی گروہوں سے نمٹا جا چکا ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام انتخابات میں خود فیصلہ کریں گے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔

ریاست نے آزاد کشمیر میں بروقت انتخابات کرانے کا فیصلہ کرلیا، عامر محبوب

آزاد کشمیر کی صورت حال پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی عامر محبوب نے ’وی نیوز ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ریاست نے فیصلہ کرلیا ہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابات بروقت کرائے جائیں گے، اس کے علاوہ احتجاجی مظاہرین کے سامنے سرینڈر بھی نہیں کیا جائےگا۔

انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے الیکشن ملتوی کرنے کا مطالبہ سیاسی نوعیت کا ہے، جس کے جواب میں مسلم لیگ ن نے بھی اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔

عامر محبوب نے کہاکہ چونکہ پاکستان پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی زیادہ نشستیں پنجاب میں ہیں، اور یہاں سے ملسم لیگ ن فائدہ اٹھاتی ہے، تو متناسب نمائندگی اس کا بہترین حل ہے، لیکن ان کے مطالبے پر الیکشن ملتوی نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ ریاست یہ سمجھتی ہے کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کا معاملہ چونکہ کشمیر کاز سے جڑا ہوا ہے، اس لیے ان نشستوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔

انہوں نے کہاکہ انوارالحق کو 48 ووٹوں کے ذریعے وزیراعظم منتخب کرنا ایک سنگین غلطی تھی، جس کے باعث آزاد کشمیر میں ایک سیاسی خلا پیدا ہوگیا، ورنہ آج ہم اس نہج پر نہ ہوتے۔

الیکشن شیڈول واپس لینے کا مطالبہ غیر آئینی ہے، راجا کفیل احمد

آزاد کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی راجا کفیل احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے، لیکن پیپلز پارٹی کو کسی صورت الیکشن شیڈول واپس لینے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر 27 جولائی کو آزاد کشمیر میں انتخابات نہ ہوئے تو پھر یہی لوگ انتخابات کرانے کے لیے احتجاج کریں گے، لہٰذا ضروری ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں۔ انہوں نے الیکشن شیڈول واپس لینے کے مطالبے کو غیر آئینی قرار دیا۔

راجا کفیل احمد نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2005 کے زلزلے کے بعد لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے تھے۔ اس وقت کے وزیراعظم سردار سکندر حیات نے میڈیا پر آ کر کہا تھا کہ ’میں اس وقت قبرستان کا وزیراعظم ہوں‘، لیکن اس کے باوجود 2006 میں وقت پر انتخابات منعقد ہوئے۔

سینیئر صحافی نے کہا کہ پاکستان میں مارشل لا لگنے کے باوجود آزاد کشمیر میں ہمیشہ بروقت انتخابات ہوئے، لہٰذا اب بھی انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہونے چاہییں۔

پیپلز پارٹی کے مطالبے پر الیکشن ملتوی نہیں ہو سکتے، جاوید اقبال ہاشمی

سینیئر صحافی جاوید اقبال ہاشمی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا الیکشن شیڈول واپس لینے کا مطالبہ ایک سیاسی چال ہے، اور اسی مقصد کے تحت یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات بروقت ہوں گے، جو آئینی تقاضا ہے، البتہ موجودہ صورتحال کے باعث کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

جاوید اقبال ہاشمی نے کہا کہ مظفرآباد اور میرپور ڈویژن میں کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہیں، جبکہ کہیں کوئی بڑا احتجاج نہیں ہو رہا۔ راولاکوٹ میں احتجاجی مظاہرین کے بیٹھنے سے انتخابی عمل متاثر نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پونچھ کے 5 حلقوں کے امیدواروں کو راولپنڈی میں کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی سہولت بھی فراہم کر دی ہے، اس لیے انتخابی عمل ملتوی کرنے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp