کچھ آوازیں کانوں سے ٹکراتی ہیں اور گزر جاتی ہیں، کچھ دل میں اترتی ہیں اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو انسان کے اندر کہیں بہت گہرائی میں جا کر ٹھہر جاتی ہیں، گھر کر لیتی ہیں۔ نصرت فتح علی خان کی آواز تیسری قسم کی تھی۔
وہ گاتے تھے تو محسوس ہوتا تھا جیسے الفاظ کو صرف آواز نہیں، روح مل گئی ہو۔ جیسے شعر کلیات سے نکل کر کسی کیفیت میں بدل گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ 16 اگست 1997 کو اس عظیم فنکار کی آواز خاموش ہونے کے باوجود آج 29 برس بعد بھی زندہ ہے۔
نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ موسیقی انہیں ورثے میں ملی۔ ان کا تعلق قوالی کے ایسے خانوادے سے تھا جس نے نسلوں اس فن کی آبیاری کی۔ نصرت نے نہ صرف اس روایت کو آگے بڑھایا بلکہ اسے نئی دنیا سے بھی متعارف کرایا۔
48 برس کی مختصر زندگی میں انہوں نے جو مقام حاصل کیا، وہ کسی ایک ملک، زبان یا موسیقی کی صنف تک محدود نہیں تھا۔ ریئل ورلڈ ریکارڈز کے مطابق، نصرت فتح علی خان قوالی کو مغربی دنیا تک پہنچانے والے انتہائی بااثر فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی آواز کو موسیقی کی تاریخ کی عظیم آوازوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ آج قریباً تین دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کی آواز نئی نسل کے کانوں میں اسی اپنائیت سے اترتی ہے۔
نصرت فتح علی خان نے قوالی کو صرف محفل، دربار یا خانقاہ تک محدود نہیں رہنے دیا۔ انہوں نے اسے عالمی موسیقی کے بڑے پلیٹ فارم تک پہنچایا اور ایسی نسل کو بھی قوالی سے متعارف کرایا جس کے لیے برصغیر کی اس صوفیانہ موسیقی کی روایت بالکل اجنبی تھی۔
پاکستان کے قومی ثقافتی ورثے کے ریکارڈ کے مطابق قوالی برصغیر میں سات سو سال سے زیادہ پرانی صوفی موسیقی کی روایت ہے، اور نصرت فتح علی خان ان فنکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے اسے عالمی سامعین تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
نصرت فتح علی خان کے گھرانے میں موسیقی محض پیشہ نہیں بلکہ نسلوں سے چلی آنے والی روایت تھی۔ انہوں نے اسی روایت سے تربیت پائی اور آگے چل کر اپنے منفرد انداز سے اسے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کے فن کی سب سے بڑی خوبی شاید یہ تھی کہ وہ ایک ہی وقت میں روایت کے امین بھی تھے اور جدت کے علمبردار بھی۔
وہ جب قوالی گاتے تو صدیوں پرانی روحانی روایت اپنی پوری شدت کے ساتھ سنائی دیتی، لیکن جب مغربی موسیقاروں کے ساتھ تجربات کرتے تو یہی آواز موسیقی کے نئے عالمی منظرنامے کا حصہ بن جاتی۔
1985 میں برطانیہ کے ووماد فیسٹیول میں نصرت فتح علی خان کی شرکت ان کے عالمی سفر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ ان کی پرفارمنس نے مغربی سامعین کو قوالی کی روحانی طاقت اور ان کے غیر معمولی صوتی اظہار سے روشناس کرایا۔ گارڈین کے مطابق اسی دور میں نصرت کی موسیقی نے جنوبی ایشیائی ثقافتی شناخت کو عالمی موسیقی کے منظرنامے میں نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
بعدازاں پیٹر گیبریئل کے ریئل ورلڈ ریکارڈز سے ان کا تعلق قائم ہوا اور 1990 میں ’مست مست‘ سامنے آیا۔ یہ البم کینیڈین موسیقار مائیکل بروک کے ساتھ ایک ایسا تجربہ تھا جس میں روایتی قوالی اور جدید مغربی صوتی تکنیکوں کو یکجا کیا گیا۔ یہ محض موسیقی کا تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک پل تھا، ایک طرف صوفیانہ قوالی کی صدیوں پرانی روایت اور دوسری طرف جدید مغربی موسیقی کے سامعین۔
نصرت نے ثابت کیا کہ زبان مختلف ہو سکتی ہے، ساز مختلف ہوسکتے ہیں، موسیقی کے انداز مختلف ہوسکتے ہیں، مگر سُر سچا ہو تو آواز سرحدیں عبور کر لیتی ہے۔
نصرت فتح علی خان کو 1997 میں دو گریمی ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا۔ ان کا البم (Intoxicated Spirit) بہترین روایتی لوک موسیقی کے زمرے میں جبکہ مائیکل بروک کے ساتھ (Night Song) بہترین عالمی موسیقی کے زمرے میں نامزد ہوا۔
یہ نامزدگیاں اس بات کا ثبوت تھیں کہ فیصل آباد سے اٹھنے والی ایک قوال کی آواز اب دنیا کے سب سے بڑے موسیقی کے پلیٹ فارمز تک پہنچ چکی تھی۔ لیکن نصرت کی اصل کامیابی کسی ایوارڈ کا نام نہیں۔ ان کی اصل کامیابی یہ تھی کہ آج بھی جب ’یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے‘، ’تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی‘، ’آفریں آفریں‘ یا ’سانسوں کی مالا‘ کی آواز سنائی دیتی ہے تو سننے والا صرف گانا نہیں سنتا، ایک کیفیت میں داخل ہوجاتا ہے اور شاید یہی کسی بڑے فنکار کی سب سے بڑی پہچان ہوتی ہے۔
نصرت فتح علی خان کے بہترین دس؟
یہ فہرست کسی باقاعدہ سرکاری یا حتمی درجہ بندی کا دعویٰ نہیں، بلکہ نصرت صاحب کے مقبول، یادگار اور مختلف ادوار کی نمائندگی کرنے والے کلام کا انتخاب ہے۔ ان کے وسیع ذخیرۂ موسیقی کی وجہ سے ’بہترین دس‘ کا فیصلہ بہرحال ذوقی معاملہ ہے۔ موجودہ اسٹریمنگ فہرستوں اور نصرت کے معروف ریکارڈنگ ذخیرے میں بھی ان میں سے کئی کلام نمایاں طور پر موجود ہیں۔
01: یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے
نصرت کی آواز کا وہ رنگ جس میں عشق، سرور، درد اور بے خودی ایک ساتھ محسوس ہوتے ہیں۔ یہ ان کی مقبول ترین ریکارڈنگز میں شمار ہوتی ہے اور آج بھی ان کے تعارف کا ایک مضبوط حوالہ ہے۔
02: تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی
یہ وہ کلام ہے جس میں نصرت کی آواز محبت کے دکھ کو ایک ایسی شدت دیتی ہے کہ شعر محض شعر نہیں رہتا، ایک ذاتی تجربہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ لائبریری آف کانگریس نے بھی اسے نصرت کی قوالی کے طور پر دستاویزی حوالوں میں شامل کیا ہے۔
03: آفریں آفریں
نصرت کے گیتوں میں سے ایک جس نے ان کی آواز کو قوالی کے روایتی حلقوں سے باہر بھی بہت وسیع سامعین تک پہنچایا۔ آج بھی اسے ان کی سب سے زیادہ سنے جانے والے گیتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
04: مست مست، دم مست قلندر
صوفیانہ کیفیت، وجد اور اجتماعی جوش کا ایسا امتزاج جس میں نصرت کی آواز محفل کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے۔ ان کی معروف ریکارڈنگز میں یہ کلام طویل عرصے سے نمایاں رہا ہے۔
05: سانسوں کی مالا پہ ۔ ۔ ۔
یہاں نصرت کی آواز میں عشق صرف انسانی جذبہ نہیں رہتا بلکہ روحانی کیفیت اختیار کرلیتا ہے۔ ان کی طویل قوالی پرفارمنسز میں یہ کلام ان کے صوتی اظہار کی وسعت دکھاتا ہے۔
06: اللہ ہُو
نصرت کی قوالی کا شاید سب سے بنیادی اور طاقتور رنگ۔ ذکر، تکرار اور رفتہ رفتہ بڑھتی ہوئی موسیقیاتی شدت۔ 1985 کے ووماد فیسٹیول میں ان کی قریباً 20 منٹ کی ’اللہ ہو‘ پرفارمنس نے مغربی سامعین پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔
07: شہر کے دکانداروں
یہ کلام نصرت فتح علی خان کی آواز میں سماجی شعور، درد اور کلاسیکی رنگ کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ ان کی منفرد گائیکی نے اس کلام کے الفاظ کو ایسی تاثیر بخشی کہ یہ آج بھی ان کی یادگار گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔
08: اکھیاں اڈیک دیاں
پنجابی زبان کا یہ درد بھرا کلام انتظار، جدائی اور بے قراری کی کیفیت کو نصرت کے مخصوص انداز میں بیان کرتا ہے۔ ان کی پنجابی قوالیوں کے شائقین کے نزدیک یہ ایک خاص مقام رکھتا ہے۔
09: من اٹکیا بے پرواہ دے نال
یہاں نصرت کی آواز میں صوفیانہ وارفتگی اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ یہ ان ریکارڈنگز میں سے ہے جنہیں سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ قوالی صرف الفاظ اور دھن کا نام نہیں، بلکہ ایک کیفیت کا سفر بھی ہے۔
10: مست مست
یہ گیت اس فہرست میں سب سے مختلف ہے کیونکہ یہ صرف ایک مقبول گانا نہیں بلکہ نصرت کے عالمی سفر کی علامت بھی ہے۔ مائیکل بروک کے ساتھ 1990 میں تیار ہونے والے گیت نے روایتی صوفیانہ موسیقی کو جدید مغربی صوتی تکنیک کے ساتھ جوڑا اور نصرت کی آواز کو ’ورلڈ میوزک‘ کے سامعین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
نصرت کی آواز کیوں نہیں مرتی؟
نصرت فتح علی خان کو گزرے برسوں کا حساب لگایا جائے تو قریباً تین دہائیاں بنتی ہیں، مگر ان کی آواز کے لیے وقت جیسے رک گیا ہے۔ آج ان کے پرانے کلام نئے گلوکاروں کی آوازوں میں دوبارہ سامنے آتے ہیں، نئی نسل انہیں نئے انداز میں سنتی ہے، ڈیجیٹل پلیٹ فارم ان کی پرانی ریکارڈنگز کو نئے سامعین تک پہنچاتے ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں میں موسیقار اب بھی ان کے فن سے متاثر ہوتے ہیں۔
وہ گاتے تو الفاظ اپنی جگہ رہتے، مگر ان کے درمیان ایک ایسی کیفیت پیدا ہوجاتی تھی جسے کسی زبان میں ترجمے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اسی لیے نصرت فتح علی خان کی برسی محض ایک عظیم پاکستانی فنکار کو یاد کرنے کا دن نہیں۔ یہ اس آواز کو یاد کرنے کا دن ہے جس نے ہمیں بتایا کہ سچی موسیقی سرحدیں نہیں مانتی، زبانوں کی پابند نہیں ہوتی اور وقت اسے خاموش نہیں کرسکتا۔
جب جب ان کی آواز ریڈیو، ٹی وی یا موبائل فون سے سنائی دے گی تو ہر بار یہی محسوس ہوگا نصرت گئے نہیں، بس اپنی آواز میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ نصرت فتح علی خان صرف ایک شخص کا نام نہیں تھا۔ وہ ایک آواز تھے، ایسی آواز جو 16 اگست 1997 کو خاموش تو ہوئی، مگر ختم نہیں ہوئی کیونکہ کچھ فنکار مرتے نہیں، اپنی آواز میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہوجاتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













