کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی، 154 رہنما و کارکن فورتھ شیڈول میں شامل

جمعہ 19 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

حکومتِ آزاد کشمیر نے ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 154 رہنماؤں اور کارکنوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اقدام کا مقصد ریاستی امن، عوامی تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں ہنگامہ آرائی کی منصوبہ بندی،جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی لیک آڈیو کال سامنے آگئی

حکومتِ آزاد کشمیر نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے اس کے 154 رہنماؤں اور کارکنوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کر دیا ہے۔

حکومتی فیصلے کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی سرگرمیوں، نقل و حرکت، رابطوں اور مالی معاملات کی نگرانی کی جائے گی، جبکہ ان کے شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ کارروائی آزاد جموں و کشمیر انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 2014، کابینہ کے فیصلے اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کی سفارشات کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہے۔

حکومت نے اس حوالے سے نادرا، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، اسٹیٹ بینک، نیکٹا اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری اقدامات اور فیصلے پر عمل درآمد کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی آڈیو لیک، شرپسندی پھیلانے سے متعلق منصوبہ بے نقاب

حکام کا کہنا ہے کہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی مالی سرگرمیوں، ممکنہ روابط اور دیگر معاملات پر کڑی نظر رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو روکا جا سکے جو ریاستی امن اور عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔

حکومتِ آزاد کشمیر نے واضح کیا ہے کہ ریاست میں انتشار، اشتعال انگیزی، امن و امان کو نقصان پہنچانے یا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق ریاستی ادارے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھیں گے اور قانون شکن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp