کاروباری ہفتے کے آخری روز پاکستان کے مالیاتی بازاروں میں ملی جلی صورتحال دیکھی گئی۔
ایک طرف جہاں انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ اور یورو کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری آئی۔
دوسری جانب پاکستان سٹاک ایکسچینج شدید مندی کی لہر کی لپیٹ میں رہی، جس کے باعث ہنڈریڈ انڈیکس میں 2400 سے زیادہ پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی کا راج
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز شدید ترین مندی کا رجحان رہا، جس کے نتیجے میں ہنڈریڈ انڈیکس 2,475 پوائنٹس کی گراوٹ کے بعد 1 لاکھ 78 ہزار 922 کی سطح پر بند ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:روپے کے مقابلے میں ڈالر سستا، مزید کتنی کمی کا امکان ہے؟
مارکیٹ میں مجموعی طور پر 564 کمپنیوں کے شیئرز میں کاروبار ہوا، جن میں سے 329 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں مندی اور صرف 141 کمپنیوں کے شیئرز میں تیزی دیکھی گئی۔
جبکہ 94 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ مارکیٹ میں کاروباری حجم کافی تیز رہا اور 53 ارب روپے سے زائد مالیت کے 1 ارب سے زائد حصص (شیئرز) کی خرید و فروخت ہوئی۔
انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں کرنسیوں کے نرخ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 1 پیسہ سستا ہونے کے بعد 278 روپے 26 پیسے سے کم ہو کر 278 روپے 25 پیسے پر بند ہوا۔
اوپن مارکیٹ میں بھی امریکی ڈالر کی قیمت میں 1 پیسے کی معمولی کمی دیکھی گئی، جس کے بعد وہ 279 روپے 54 پیسے کا ہو گیا۔
مزید پڑھیں:اسٹاک مارکیٹ: 78 ہزار پوائنٹس کی حد بحال، ڈالر مزید سستا
اوپن مارکیٹ میں یورپی اور برطانوی کرنسیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم خلیجی ممالک کی کرنسیوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
کاروباری دن کے اختتام پر مختلف بین الاقوامی کرنسیوں کے نرخ درج ذیل رہے
| کرنسی کا نام | اوپن مارکیٹ ریٹ (روپے میں) | ردو بدل کی صورتحال |
| برطانوی پاؤنڈ | 372.62 روپے | 2.20 روپے سستا ہوا |
| یورو | 322.99 روپے | 1.33 روپے سستا ہوا |
| امریکی ڈالر | 279.54 روپے | 0.01 پیسہ سستا ہوا |
| اماراتی درہم | 76.59 روپے | 0.02 پیسے مہنگا ہوا |
| سعودی ریال | 74.87 روپے | 0.02 پیسے مہنگا ہوا |
واضح رہے کہ کرنسی مارکیٹ میں روپے کا استحکام ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم سٹاک مارکیٹ میں پرافٹ ٹیکنگ (منافع کی وصولی) اور ہفتے کے آخری روز سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اپنانے کے باعث انڈیکس میں بڑی کریکشن دیکھی گئی ہے۔














