امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی ایلچی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔ تاہم لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں نے امن عمل کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور دونوں ممالک کے نمائندے سوئٹزرلینڈ پہنچ رہے ہیں جہاں جنگ بندی اور مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔
✈️ Pakistani official travels to Tehran to discuss resumption of US-Iran talks in Switzerland
📍 Technical-level negotiations are expected to begin in Switzerland 'in a day or two,' Pakistani government sources tell Anadolu https://t.co/StE7X5wDbF pic.twitter.com/CFw5BxMLlC
— Anadolu English (@anadoluagency) June 20, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، جو پہلے سے موجود جیرڈ کشنر کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک ہوں گے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جنیوا میں تکنیکی مذاکرات شروع کریں گے۔ مذاکرات کا مقصد رواں ہفتے طے پانے والے عبوری معاہدے کو ایک مستقل علاقائی امن معاہدے میں تبدیل کرنا ہے۔
سوئس وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کشیدہ صورتحال کے باعث اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

الجزیرہ کے مطابق سفارتی پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، تاہم اس کے باوجود جنوبی لبنان کے علاقوں میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ نبطیہ اور اس کے اطراف میں اسرائیلی طیاروں، ڈرونز اور توپ خانے کی بمباری سے رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں اور متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور قطر کا ایران کے منجمد اربوں ڈالر جاری کرنے پر غور، 6 ارب ڈالر کی ابتدائی رقم تک رسائی کا امکان
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 47 افراد کی ہلاکت کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا۔ ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کو اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ اسرائیل معاہدے کی شرائط کی پابندی کرے۔
Trump envoy, Iranian minister head to Switzerland for talks https://t.co/WSpZZhUPX4 https://t.co/WSpZZhUPX4
— Reuters (@Reuters) June 20, 2026
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام محاذوں، بالخصوص لبنان میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے رابطے میں بھی اس معاملے پر گفتگو کی۔
ذرائع کے مطابق آئندہ 60 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم امور پر بات چیت ہوگی۔ اس عمل کو آبنائے ہرمز کھولنے، عالمی تیل کی ترسیل بحال کرنے اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
عبوری معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ ایران کو ممکنہ طور پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے مالی سہولتیں ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟
دوسری جانب امریکا میں بعض ریپبلکن رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کو ایران کے لیے رعایتوں پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے، تاہم ٹرمپ نے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ سے کمزور ہوا ہے اور آئندہ 60 روز اہم ہوں گے۔
ادھر یونیسیف نے غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اوسطاً روزانہ ایک فلسطینی بچہ جاں بحق ہو رہا ہے۔














