نجی تصاویر وائرل ہونے سے عائشہ عمر کی زندگی کس طرح متاثر ہوئی؟

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف اداکارہ عائشہ عمر نے انکشاف کیا ہے کہ رضامندی کے بغیر ان کی نجی تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل کیے جانے کے واقعے نے جہاں ان کے ذاتی تعلقات کو متاثر کیا، وہیں ان کے کیریئر اور ذہنی صحت کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیٹنگ شو ’لازوال عشق‘ پر شدید تنقید کے بعد میزبان عائشہ عمر بھی بول پڑیں

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے عائشہ عمر نے سوشل میڈیا کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خواتین کے تحفظ میں ناکامی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ عائشہ عمر کا یہ بیان خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم چین کی اس رپورٹ کا حصہ ہے، جس میں پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم 64 متاثرہ خواتین کے تجربات شامل کیے گئے ہیں۔

اداکارہ نے ماضی کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ دوستوں کے ساتھ تھائی لینڈ کے نجی دورے کے دوران لی گئی کچھ تصاویر مبینہ طور پر ان کے لیپ ٹاپ سے چوری کرکے ان کی اجازت کے بغیر انٹرنیٹ پر پھیلا دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ ساحل سمندر پر چھٹیاں گزار رہی تھیں اور تصاویر میں کوئی غیر اخلاقی چیز نہیں تھی بلکہ وہ محض عام لباس میں تفریح کررہی تھیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by BBC Global Women (@bbcglobalwomen)

عائشہ عمر کے مطابق اس واقعے نے ان کے کیریئر کو بہت نقصان پہنچایا اور کئی تجارتی برانڈز نے ان سے کام واپس لے لیا کیونکہ ہمارے معاشرے میں خواتین سے ایک خاص روایتی تاثر برقرار رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔

اس صدمے کے باعث عائشہ عمر شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوئیں اور ان میں ہر وقت خوف اور بے چینی کی کیفیت رہنے لگی۔ تنظیم کی بانی حرا حسین نے عائشہ عمر کے ساتھ مل کر اس مسئلے کی نئی تشریح پر کام کیا ہے تاکہ اس روایتی تصور کو بدلا جا سکے کہ ایسے جرائم کا تعلق صرف برہنہ تصاویر سے ہوتا ہے۔

یہ بھی پرھیں: ’شروع ہونے سے پہلے ہی بائیکاٹ کیا جائے‘، عائشہ عمر کے ڈیٹنگ ریئلٹی شو لازوال عشق پر صارفین پھٹ پڑے

حرا حسین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر جنوبی ایشیا اور پاکستان جیسے قدامت پسند معاشروں میں کسی خاتون کی عام نجی تصویر بھی اس کی مرضی کے بغیر وائرل کرکے اسے بدنام یا ہراساں کیا جا سکتا ہے، اس لیے اصل مسئلہ تصویر کی نوعیت نہیں بلکہ رضامندی اور اجازت کا ہے۔

رپورٹ میں ماہنور نامی ایک اور 32 سالہ پاکستانی خاتون کا واقعہ بھی شامل ہے، جن کے مطابق ان کے سابق شوہر نے مبینہ طور پر مغربی لباس میں ان کی عام تصاویر انٹرنیٹ پر پھیلا دیں۔ اس اقدام کے باعث نہ صرف ان کی موجودہ ازدواجی زندگی متاثر ہوئی بلکہ خاندان اور دوستوں کی حمایت بھی ختم ہوگئی، جس کے اثرات ان کے بچوں پر بھی پڑے۔

یہ بھی پڑھیں: عائشہ عمر نے “ڈیجیٹل ڈیٹوکس” کا سہارا کیوں لیا؟

رپورٹ کے مطابق موجودہ دور میں تصاویر کے ذریعے ہراسانی کا مسئلہ صرف نجی تصاویر کے پھیلاؤ تک محدود نہیں رہا بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور ایڈیٹنگ کے ذریعے تصاویر کو توڑ مروڑ کر خواتین کے خلاف جھوٹے تاثر اور انتقامی مہمات کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایرانی صدر سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، باہمی دلچسپی، خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

چین نے دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر بنا کر امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا

مصنوعی ذہانت اب بھکاریوں کے پیٹ پر بھی لات مارے گی؟ ری چارجنگ کو ترستے روبوٹ نے سڑک پر ہاتھ پھیلا دیے

سنگاپور : بزرگ خاتون کے کچرے سے بھرے فلیٹ سے ہزاروں ڈالرز کے سکے اور سونا برآمد

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: ایران کا پاکستان کے کردار کا باضابطہ اعتراف، صدر مسعود پزشکیان کا دورہ نہایت اہم

ویڈیو

ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے استقبال کیا، 21 توپوں کی سلامی، گارڈ آف آنر پیش

پاکستان نے ایران امریکا مفاہمت میں تاریخی کردار ادا کیا، یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

ڈرگ روڈ کا نام ’شارع فیصل‘ کیوں رکھا گیا، تاریخی اہمیت کیا ہے؟

کالم / تجزیہ

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا