ٹیلی کام ترمیمی بل 2026: ’رائٹ آف وے‘ پر وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ پیش

بدھ 24 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026 میں رائٹ آف وے شقوں سے متعلق رپورٹ پیش کر دی ہے۔

بدھ کو وزارتِ قانون و انصاف، حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ہدایت پر قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے ’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026‘ میں شامل ’رائٹ آف وے‘ شقوں کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے متنازع پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن بل 2026 واپس آئی ٹی کمیٹی کو بھجوا دیا

کمیٹی نے متعدد اجلاسوں اور تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ رائے دی ہے کہ بل کا بنیادی مقصد ملک میں ڈیجیٹل رابطہ سہولت (ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی) کو بہتر بنانا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، تاہم بعض شقوں کی زبان میں مزید وضاحت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔

نجی جائیداد کے تحفظ کے لیے سخت شرائط

رپورٹ میں واضح طور پر سفارش کی گئی ہے کہ ذاتی پراپرٹی کے معاملے میں مالک کی رضامندی اور باہمی معاہدہ ہی بنیادی شرط ہوگی۔

 کسی بھی نجی فرد، کمپنی یا نجی قانونی ادارے کی زمین، عمارت، جائیداد یا اثاثے کے استعمال یا وہاں تک رسائی سے متعلق کوئی بھی اقدام مالک کی پیشگی رضامندی اور باہمی معاہدے کے بغیر نہیں اٹھایا جا سکتا۔

قانون کے دائرہ کار اور تعریفوں کی وضاحت

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اس قانون کا اطلاق عوامی اداروں، وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے زیرِ ملکیت یا زیرِ انتظام زمین، عمارت، جائیداد اور اثاثوں کے ساتھ ساتھ منظم نجی رہائشی منصوبوں، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز اور اسی نوعیت کے دیگر اداروں پر واضح طور پر کیا جائے۔

اس مقصد کے لیے نجی زمین، نجی جائیداد، نجی افراد، کمپنیوں، کوآپریٹو سوسائٹیز اور مشترکہ ملکیت کے دیگر انتظامات کی تعریفیں قانون میں صاف اور واضح طور پر شامل کی جائیں تاکہ کسی بھی سطح پر کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

زمین کے اوپر اور زیرِ زمین بنیادی ڈھانچے میں فرق

رپورٹ کے مطابق زمین کے اوپر اور زیرِ زمین قائم کیے جانے والے ٹیلی کام بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر)، ‘رائٹ آف وے’ اور متعلقہ آلات کے معاملات میں واضح فرق برقرار رکھا جائے گا اور ہر معاملے کی نوعیت کے حساب سے الگ طریقہ کار (ایس او پیز) مقرر کیا جائے گا۔

تنازعات کا 45 دن میں فیصلہ اور اپیل کا حق

اگر کسی لائسنس یافتہ ٹیلی کام ادارے اور عوامی ادارے، رہائشی منصوبے یا کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے درمیان کوئی تنازع پیدا ہوتا ہے، تو معاملہ ‘اپروپریٹ گورنمنٹ’ (متعلقہ حکومت) کو بھیجا جائے گا۔

مزید پڑھیں:سینیٹ کمیٹی نے نادرا کو شناختی کارڈ عارضی ضبط کرنے کی اجازت دینے والا بل منظور کرلیا

وقت کی حد

متعلقہ حکومت اس معاملے کا فیصلہ پینتالیس (45) دن کے اندر قانون کے مطابق کرنے کی پابند ہوگی۔

ٹربیونل سے رجوع

متعلقہ حکومت کے فیصلے سے متاثرہ کسی بھی شخص یا ادارے کو ‘ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹربیونل’ سے رجوع کرنے کا مکمل حق حاصل ہوگا، جو ‘پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996’ کے سیکشن ‘7 اے’ کے تحت قائم ہے۔ اس معاملے میں ٹربیونل کا فیصلہ ہی حتمی تصور ہوگا۔

جرمانوں اور اوور رائیڈنگ کلاز کا جائزہ

کمیٹی نے ’اوور رائیڈنگ کلاز‘ کے دوبارہ جائزے کی بھی سفارش کی ہے تاکہ قانون کی زبان اور اصل مقصد میں ہم آہنگی رہے اور شہریوں کے حقوق سے متعلق کوئی ابہام باقی نہ رہے۔

مزید برآں سیکشن ’27 بی ون‘ کے تحت تجویز کردہ جرمانے کی رقم کا بھی دوبارہ جائزہ لینے اور اسے قانون کے مجموعی مقصد، ڈھانچے اور شقوں سے ہم آہنگ بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

ایک ہفتے میں ترمیمی مسودہ حتمی کرنے کا عزم

وزارتِ قانون و انصاف کے اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے وسیع اصولوں، پالیسی مقاصد اور ضروری ترامیم پر اتفاق کر لیا ہے۔

کمیٹی کی ان سفارشات کی روشنی میں ’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026‘ کا ترمیمی مسودہ ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دے کر مزید غور اور حتمی ہدایات کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔

شہریوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

وزارتِ قانون و انصاف نے پریس ریلیز کے آخر میں واضح کیا کہ حکومت ملک میں ٹیلی کام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کی تیز رفتار ترقی کی خواہاں ہے، مگر یہ ترقی شہریوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے مکمل تحفظ کے ساتھ ہی آگے بڑھے گی۔

یہ بھی پڑھیں:مشکوک شخص کو 3 ماہ تک حراست میں رکھا جا سکے گا، قومی اسمبلی میں ترمیمی بل منظور

شہریوں کی نجی جائیداد، مالک کی رضامندی، حقِ اعتراض، قانونی تحفظ اور مناسب معاوضے کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

’رائٹ آف وے‘ اصلاحات کا اصل مقصد عوام کو بہتر، قابلِ اعتماد اور تیز انٹرنیٹ سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی شہری کے حقِ ملکیت کو متاثر کرنا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوہاٹ میں طوفانی بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے 9 افراد جاں بحق، 3 زخمی

پاکستان جنوبی افریقہ انڈر 19 ویمنز ٹی 20 سیریز: تمام میچز میں مفت داخلے کا اعلان

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے آئندہ 2 سال کے لیے سربراہی سنبھال لی

19 سالہ چینی طالب علم نے 28 کروڑ روپے کی جائیداد بچپن کے دوست کے نام کر دی

وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات، عالم اسلام کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال

ویڈیو

’چاہتا ہوں یہ چیزیں نہ ہوں، پارٹی کارکنان سکون کا سانس لیں‘، وسیم اختر کا خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی لفظی جنگ پر ردعمل

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ، کون سے نئے چہرے شامل ہونے جا رہے ہیں؟

سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی، کیا صارفین کو واقعی ریلیف ملا ؟

کالم / تجزیہ

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ

اونٹ کے جسم پر گل کاری کا آرٹ