انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس نے نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ سے قبل نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعے پر معذرت کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ٹیم کا کرفیو توڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بین اسٹوکس کی ٹیسٹ کپتانی خطرے میں، نائٹ کلب واقعے کی تحقیقات شروع
ٹرینٹ برج میں جمعرات سے شروع ہونے والے فیصلہ کن ٹیسٹ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹوکس نے کہا کہ بطور کپتان انہوں نے اپنی غلطی کی ذمہ داری قبول کی اور اس معاملے پر فوری طور پر معذرت بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ یقیناً میں نے معذرت کی۔ بطور کپتان یہ ان اولین کاموں میں شامل تھا جو مجھے کرنا تھے۔
’واقعے سے کئی افراد متاثر ہوئے‘
بین اسٹوکس کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے اثرات صرف ان تک محدود نہیں رہے بلکہ قائم مقام کپتان جو روٹ پوری انگلش ٹیم اور کھیل سے باہر موجود کئی افراد بھی اس سے متاثر ہوئے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازعے نے نوجوان کھلاڑیوں جارڈن کاکس، سونی بیکر اور جیمز ریو کے ٹیسٹ ڈیبیو کی خوشیوں کو بھی پس منظر میں دھکیل دیا۔
اسٹوکس کے مطابق اس دن توجہ مکمل طور پر ان کھلاڑیوں پر ہونی چاہیے تھی۔ اپنے کیریئر کے سب سے بڑے دن پر وہی مرکزِ نگاہ بننے کے حق دار تھے۔
انگلش کپتان نے کہا کہ قیادت کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب کوئی غلطی ہو جائے اور اس کی ذمہ داری قبول کی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے متاثر ہونے والے تمام افراد سے براہِ راست ملاقات کی، ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر معذرت کی اور اپنی غلطی تسلیم کی۔
اب تمام توجہ سیریز جیتنے پر
بین اسٹوکس نے جو روٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں دوبارہ کپتانی سنبھالنا ان کے مضبوط کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اب ان کی پوری توجہ نیوزی لینڈ کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ اور سیریز جیتنے پر مرکوز ہے۔ ان کے بقول اب ہماری تمام توجہ سیریز جیتنے پر ہے۔
واضح رہے کہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان 3 میچوں کی سیریز اس وقت 1-1 سے برابر ہے اور ٹرینٹ برج میں ہونے والا تیسرا ٹیسٹ سیریز کا فیصلہ کرے گا۔
یاد رہے کہ بین اسٹوکس حالیہ دنوں اس وقت تنازعے کا شکار ہوئے جب وہ نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ سے قبل ٹیم کے مقررہ کرفیو (رات کے وقت مقررہ پابندی) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک نائٹ کلب میں موجود پائے گئے۔
مذکورہ واقعہ ٹرینٹ برج ٹیسٹ سے پہلے پیش آیا جس کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اسٹوکس نے بعد ازاں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ساتھی کھلاڑیوں، ٹیم انتظامیہ، قائم مقام کپتان جو روٹ اور خاص طور پر نئے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے کھلاڑیوں سے معذرت کی کیونکہ ان کے بقول اس واقعے نے ان نوجوان کھلاڑیوں کے یادگار لمحات پر بھی اثر ڈالا۔














