نئی نویلی استحکام پاکستان پارٹی اچانک کیوں بکھرنے لگی؟

منگل 13 جون 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

استحکام پاکستان پارٹی 22 دنوں میں وجود میں آئی تھی جبکہ 8 جون کو پارٹی کا منشور عوام کے سامنے رکھا گیا تھا۔ پی ٹی آئی دھڑوں کو پارٹی کے اندر دھڑا دھڑ شامل کروایا گیا لیکن منشور سامنے آنے کے محض 5 دن بعد 2 رہنماؤں نے پارٹی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے دوسری جماعتوں میں شمولیت اختیار کرلی۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے استحکام پارٹی کے سابق رہنما لالہ طاہر رندھاوا نے بتایا کہ جہانگیر ترین اچھے انسان ہیں اور ان سے اچھا تعلق بھی ہے لیکن سیاسی طور پر ان کے ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ انکا اپنا ووٹ بنک نہیں ہے، یہ ہی اس جماعت کے لیے بڑا مسئلہ ہوگا کیونکہ عوام نے پارٹی لیڈر کے نام پر ووٹ دینا ہوتا ہے اور پارٹی منشور بھی متاثر کن نہیں، اس لیے استحکام پارٹی کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ امید ہے کہ ن لیگ کے ساتھ اگلا سیاسی کیرئیر جاری رکھوں گا۔ لالہ طاہر رندھاوا کا کہنا تھا پارٹی میں جو لوگ جوق در جوق آرہے ہیں کوئی پتا نہیں کہ وہ کسی اور جماعت میں چلے جائیں،پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کا اصل مسئلہ لیڈر کی عوامی مقبولیت نہ ہونا ہے۔

ق لیگ کینگز پارٹی بنے جا رہی ہے؟

سیاسی بساط پر ہر جماعت اپنے اپنے داؤ پیچ آزما رہی ہے تاکہ اکتوبر یا نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی جا سکے وہیں ق لیگ کے چوہدری سرور اور شافع حسین  بھی آئے روز پریس کانفرنسز کرکے نئے لوگوں کی شمولیت کا اعلان کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں اور بھی بہت سے لوگ جلد ق لیگ میں شامل ہوں گے، چوہدری سرور استحکام پارٹی میں شامل ہونے والے ایک رہنما میاں حمزہ  کرامت کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ وہ پی ٹی آئی کے سابق ایم این ایز، ایم پی ایز اور سابق ضلعی چیئرمینز کو بھی پارٹی میں لانے کے دعوے کر رہے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی کا کہنا ہے ق لیگ اور استحکام پارٹی آئندہ الیکشن میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہیں۔ استحکام پارٹی، پی ٹی آئی کے الیکٹیبلز توڑ کر خود کو کنگنز پارٹی سمجھ رہی ہے اور ق لیگ کے دعوے بھی کچھ اسی طرح کے ہیں، دونوں جماعتوں کا گڑھ پنجاب ہے اور دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا اپنا ووٹ بینک بھی نہیں، لہٰذا یہ دونوں جماعتیں پریشر گروپ تو بن سکتی ہیں لیکن بہت زیادہ سیٹس نہیں نکال سکتیں۔

انتخابی نشان ووٹ بینک بناتا ہے؟

مسلم لیگ ق سائیکل کا انتخابی نشان چھوڑ کر ٹریکٹر کا نشان حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ انتخابی نشان کسی حد تک ووٹر کو راغب کرتا ہے لیکن جیت کی ضمانت نہیں ہوتا، جیت ہمیشہ امیدوار کی شخصیت، پارٹی سے تعلق اور عوامی مقبولیت سے ہوتی ہے، انکا کہنا تھا کہ کئی ایسے امیدواروں کو جیتتے دیکھا ہے جن کا انتخابی نشان متاثر کن نہیں تھا لیکن وہ عوامی پذیرائی کے بل پر الیکشن جیتے۔ ق لیگ سمجھتی کہ ٹریکٹر کے نشان سے انہیں کسانوں کے ووٹ ملیں گے تو 2023 میں ایسی حکمت عملی کامیاب  نہیں ہو سکتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن آدھی رہ گئی

ایل پی جی کی درآمد مسابقتی بنیادوں پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا، چند افراد کا گٹھ جوڑ توڑ دیں گے، عطااللہ تارڑ

شاہ چارلس کی وراثت سے شہزادہ ہیری کو محروم کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق آج پھر اچھی خبر ملے گی، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خوشخبری سنا دی

بی وائی ڈی سی لائن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار اگلے ماہ سے شروع ہوجائے گی، حبکو

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا