وینزویلا زلزلہ: ہلاکتیں 900 سے تجاوز کر گئیں

ہفتہ 27 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

وینزویلا میں آنے والے 2 شدید زلزلوں کے بعد امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جہاں ہلاکتوں کی تعداد 920 تک پہنچ گئی جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور بڑی تعداد میں لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

وینزویلا میں بدترین زلزلے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں تباہی کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔

حکام کے مطابق بدھ کی شام آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے 2 بڑے زلزلوں نے دارالحکومت کراکس اور گرد و نواح کے علاقوں کو شدید متاثر کیا۔ زلزلے کے نتیجے میں 920 افراد جاں بحق جبکہ 3 ہزار 360 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 50 ہزار سے زیادہ افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں لا گوئیرا شامل ہے جہاں کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ متاثرہ شہری اور رضاکار بھاری مشینری کی کمی کے باعث کئی مقامات پر اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر زندہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وینزویلا کے بعد فلپائن میں بھی شدید زلزلہ، زمین لرز اٹھی

ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس کا 6 سالہ بیٹا اور خاندان کے دیگر افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ امدادی ٹیموں سے بھاری مشینری فوری پہنچانے کی اپیل کی گئی ہے۔

زلزلے کے بعد ایک بار پھر 4.9 شدت کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے جس سے خوف و ہراس میں اضافہ ہوا۔

وینزویلا کے لیے مختلف ممالک سے امدادی ٹیمیں پہنچنا شروع ہو گئی ہیں، جن میں میکسیکو، ایل سلواڈور اور دیگر ممالک کے ریسکیو اہلکار شامل ہیں۔ امدادی ٹیمیں جدید آلات، ڈرونز اور تربیت یافتہ کتوں کی مدد سے ملبے میں زندہ افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔

امریکا نے بھی وینزویلا کے لیے 150 ملین ڈالر کی امداد اور دیگر معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق زلزلوں سے ہونے والے براہ راست نقصانات 6.7 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ تقریباً 70 لاکھ افراد متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ سانحہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب وینزویلا پہلے ہی طویل سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بھی کمزور کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp