عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ 21 جون سے یورپ میں جاری ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے باعث 1,300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
مزید پڑھیں:یورپ میں شدید گرمی کی لہر، اسپین میں 4 روز کے دوران 212 اموات
ڈبلیو ایچ او کے مطابق شدید گرمی ایک خاموش قاتل ہے، جبکہ یورپ کے گھروں، دفاتر اور اسکولوں کا بنیادی ڈھانچہ اس قدر بلند درجہ حرارت کے لیے تیار نہیں۔
🌍 Europe is melting under relentless heat. Record-breaking temperatures, failing traffic lights, and millions struggling to cope—this isn’t just another summer, it’s a warning. The climate is changing faster than ever. 🔥🥵#Europe #Heatwave #ClimateChange #GlobalWarming… pic.twitter.com/tZiysvi0z5
— Rosie Bella (@chronicalguy) June 29, 2026
فرانس میں صرف گزشتہ بدھ سے اب تک متوقع تعداد کے مقابلے میں قریباً 1,000 اضافی اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ جرمنی، چیک ریپبلک، ہنگری اور پولینڈ سمیت کئی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔
مزید پڑھیں:یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں گرمی سے بچنے کی کوشش میں 40 افراد ڈوب گئے
Around 1,000 excess deaths have already been reported in France as Europe endures a record-breaking heatwave.
Temperatures reached 40°C (104°F) in parts of Europe on Sunday, while storms swept through other areas. Most of the deaths were among older people, and officials warn…
— Republicans against Trump (@RpsAgainstTrump) June 28, 2026
ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے اور رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی منصوبے نافذ کریں۔













